اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 224

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۲۴ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۱ء جھگڑا کٹ جاتا ہے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔تو وہاں بھی محبت ہی ہے جو کام آتی ہے۔محبت رستوں کو آسان کر دیتی ہے۔ایک شاعر اپنے تجربے کو یوں بیان کرتا ہے کہتا ہے۔دن رات جو ہم محبوب کے کو چوں کے چکر لگاتے ہیں اور وہاں سے دھکے کھاتے ہیں اور دھتکارے جاتے ہیں اور پھر بھی جانا نہیں چھوڑتے اور ٹھوکریں کھاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں پاگل ہو گئے ہو۔لوگ کہتے ہیں اپنے آپ کو تبدیل کرو۔ہم ان کو جواب میں کیا کہتے ہیں۔یہ تونے کیا کہا ناصح نہ جانا کوئے جاناں میں ہمیں تو راہ رووں کی ٹھوکریں کھانا مگر جانا اے پاگل نصیحت کرنے والے یہ کیا کہہ بیٹھا ہے تو کہ اپنے محبوب کے کوچوں میں نہ جاؤں۔میں تو خدا کی قسم اگر ہر چلنے والا مجھے اس کوچے میں چلتے ہوئے ٹھوکریں مارتا ہوا چلے تب بھی میں وہاں جاؤں گا۔ان ٹھوکروں کا مزہ محبت کے سوا سمجھ آہی نہیں سکتا۔محبت پاگل کر دیا کرتی ہے۔محبت ہی ہے جس نے فرہاد کا تصور پیدا کیا۔وہ تمام عمر ایک پہاڑ کو کاٹتا رہا اس غرض سے کہ اس پہاڑ سے وہ نہریں جاری ہوں جن کے بعد اس کی محبوبہ کو بطور انعام اسی کو دیا جائے گا اور اسی حالت میں اس نے جان دے دی۔کیا بات تھی جس کی خاطر اس نے ساری زندگی اس مشقت کے کام میں گنوا دی۔وہ مشقت اپنی ذات میں اس کی جزا تھی۔لوگوں کو سمجھ نہیں آتی لوگ کہتے ہیں فرہاد پاگل ہو گیا تھا۔پاگل تو تھا لیکن عشق میں پاگل ہوا تھا۔عام پاگلوں جیسا پاگل نہیں تھا۔جن کو اپنے وجود کی خبر نہیں رہتی ، اپنے مفاد کی خبر نہیں رہتی۔عشق کے پاگل وہ ہوتے ہیں جن کا مقصد بلند ہو چکا ہوتا ہے ان کا مقصد روحانی مقصد بن چکا ہوتا ہے اس مقصد کو دنیا والے سمجھ نہیں سکتے۔پس سارے کام آپ کے آسان ہو جائیں گے بجائے اس کے کہ کوئی کہے اس طرح فیشن کر کے باہر نہ پھرا کرو اس طرح وقت ضائع نہ کیا کرو۔اتنے پیسے اپنے کپڑوں پر بر باد نہ کرو۔سادہ رہو اور جس حد تک ہو سکتا ہے اچھی بنو خدا نے تمہیں دیا ہے لیکن اس میں حد سے زیادہ تجاوز نہ کرو۔دین کی خدمت کے لئے بھی کچھ رکھو اور دنیا میں ایک پاک معاشرہ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔یہ سب خالی نصیحتیں ہیں۔آپ سنیں گی اور بھول جائیں گی۔مگر اگر خدا سے محبت ہو جائے تو آپ کے دل سے ایک ناصح پیدا ہوگا۔ہر وقت دھیان خدا کی طرف رہے گا۔اگر ہر وقت نہیں تو بار بار یہ دھیان آنا شروع ہو