اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 216

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۷ ؍ جولائی ۱۹۹۱ء بن دیکھے کس طرح کسی مہ رخ پر آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل ( در ثمین صفحه: ۱۱۱) جب تک خدا آپ کا صنم نہیں بنتا جب تک خدا آپ کی ذات میں ظاہر نہیں ہوتا وہ آپ کے لئے بھی خیالی ہے اور غیروں کے لئے بھی خیالی ہے اور خدائے واحد کی ذات میں تمام کا ئنات کو اکٹھا کرنا فرضی باتوں سے ممکن نہیں ہے۔پہلے خدا آپ کی ذات میں جلوہ گر ہونا چاہئے۔آپ کی تاریکیاں روشنی میں تبدیل ہو جانی چاہئیں۔پھر وہ خدا آپ کی ذات میں اس طرح لوگوں کو دکھائی دے گا جیسے روشنی ذرات سے ٹکرانے کے بعد دکھائی دیتی ہے، فی ذاتہ دکھائی نہیں دیا کرتی۔اس حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے بسا اوقات لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ روشنی از خود نظر آنے والی چیز ہے یہ بالکل ایک جاہلانہ تصور ہے آج کی سائنس کی دنیا میں سائنس پڑھنے والا بچہ بچہ جانتا ہے کہ روشنی ایک نہ نظر آنے والی چیز ہے جب تک کسی وجود سے ٹکرا کر اس کی ہیئت کو آنکھوں تک نہیں پہنچائے۔اگر آپ کے سامنے سے روشنی گذر رہی ہو تو آپ کو کچھ دکھائی نہیں دے گا۔جب تک اردگرد کے ماحول سے روشنی ٹکرا ٹکرا کر مختلف وجودوں کا عکس آپ کی آنکھوں تک نہیں پہنچاتی اس وقت تک روشنی بظاہر روشنی ہونے کے باوجود آپ کے لئے روشنی نہیں ہے۔اسی لئے خدا نما وجودوں کی ضرورت پڑتی ہے، اسی لئے خدا کو کائنات کے آئینہ میں دیکھنا پڑتا ہے کیونکہ وہ سب روشنیوں سے زیادہ لطیف تر روشنی ہے اور براہ راست اس کا دیدار ممکن ہی نہیں ہے۔پس اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی مے خدا نما و جو د بنے تو ہم نے خدا کو دیکھا اور وہ ایسے خدا نما نے اور آپ پر خدا اس طرح جلوہ گر ہوا کہ کائنات کے ذرہ ذرہ میں خدا دکھائی دینے لگا۔قرآن کریم کو اگر آپ غور سے پڑھیں اور دل لگا کر اس کا مطالعہ کریں تو سب سے زیادہ گہرا اثر کرنے والا قرآن کریم کا وہ حصہ ہے جو خدا کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے جلوہ پر گفتگو کرتا ہے اور مختلف رنگ میں خدا تعالیٰ کی صفات بیان کی جاتی ہیں کبھی براہ راست اور کبھی کائنات کے حوالے سے بیان کی جاتی ہیں کبھی خود انسان کے اپنے نفس کے حوالے سے بیان کی جاتی ہیں اور ہر جگہ آپ یہ دیکھیں گے کہ براہ راست خدا دکھائی نہیں دیتا۔مگر وہ اپنی صفات کے ذریعہ جو جلوہ گر ہوتی ہیں تو خدا دکھائی دیتا ہے۔پس اس پہلو سے جب کہا جاتا ہے کہ :