اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 200
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۲۰۰ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ ایسی بیٹی گھر آئے جس کی تعلیم اس کے لئے روزی کمانے کا ذریعہ بن سکے چنانچہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ مل کر روزی کمائے اور جو کچھ کمائے وہ ہمارے سپر د کر دے اب یہ نیت زیادہ دیر تو چھپی نہیں رہ سکتی جب شادی ہو جاتی ہے تو ان بچیوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ آپ نوکریاں تلاش کر محنتیں کرو اور جو کچھ کماتی ہو وہ ہماے قدموں میں ڈال دو۔یہ تمام غیر اسلامی رسمیں ہیں اور یہ رسمیں مغرب میں مفقود ہیں مغرب میں اگر گھر ٹوٹ رہے ہیں تو نفرتوں کی بنا پر نہیں ٹوٹ رہے وہاں گھر اس لئے ٹوٹتے ہیں کہ دنیا پرستی مادی خوشیوں مادی لذتوں کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے اور انفرادیت نمو پا رہی ہے یعنی وہ پہلے سے بڑھ کر نمایاں ہوتی چلی جارہی ہے اور دنیا کی لذتوں کی راہ میں یہ انفرادیت اس طرح رشتوں کی تعمیر میں حائل ہو جاتی ہے کہ اگر ایک شخص یعنی مغرب میں شادی کرتا ہے تو وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ بیوی کی ماں یا بیوی یہ پسند نہیں کرتی کہ خاوند کی ماں ان کے گھروں پر کسی قسم کا بھی بوجھ بنیں۔اس سے ان کی آزادی پر ان کی لذت یا بی پر فرق پڑتا ہے۔چنانچہ یہ آزادی کا رجحان جو ہے یہ سب سے پہلے گھر کو تو ڑ کر محض میاں بیوی میں تبدیل کر دیتا ہے باقی رشتہ داروں سے تعلق محض اس حد تک استوار رہتا ہے جس حد تک دنیا کی رسموں میں یا بعض تقریبوں کے موقع پر دوستوں کو بلایا ہی جاتا ہے ایسے موقعوں پر خاندان کے دوسرے افراد بھی حصہ لے لیتے ہیں لیکن چونکہ تقاضے نہیں ہیں اس لئے مایوسیاں بھی نہیں ہیں رفتہ رفتہ اس خود غرضی کے معاشرے نے یہ مشکل اختیار کر لی کہ بوڑھی مائیں جو مدد کی محتاج ہیں وہ بیچاری تنہا پڑی ہوئی اپنی زندگی کے باقی دن کاٹتی ہیں اور موت کا انتظار کرتی ہیں۔بوڑھے باپ کا دیکھنے والا کوئی نہیں چنانچہ سارا معاشرہ اپنی اجتماعی ذمہ داری کو ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے ایسے لوگوں کے لئے Old Homes بنتے ہیں دیکھ بھال کے لئے ، دوسرے سامان فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یہاں تک کہ یہ معاشرہ اتنا زیادہ Society پر بوجھ ڈال دیتا ہے کہ پھر مزید تقاضے پورے نہیں ہو سکتے اور ایک عدم اطمینان اور بے چینی کا معاشرہ پیدا ہوتا ہے جو ان چیزوں میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔دن بدن سارا معاشرہ بے چین ہوتا چلا جاتا ہے۔انگلستان میں آپ دیکھ لیجئے۔یہی صورت ہے مگر یا درکھیں کہ ان برائیوں کے نتیجہ میں نفرتیں نہیں پیدا ہوتیں۔ہمارا یعنی مشرقی معاشرہ مجھے کہنا چاہئے مشرقی معاشرے کی خرابیاں نفرتیں پیدا کرتی ہیں اور اسی کا نام شریکا ہے اور یہ خرابیاں اور بھی کئی قسم کی عادتوں کے نتیجہ میں بڑھتی چلی جاتی ہیں مثلاً دکھاوا ہے بیاہ شادی کے موقعہ پر ایک خوامخواہ کا ناک بنایا ہوا ہے ان لوگوں نے اور ناک کے کٹنے کی بڑی فکر ہے ان کو یہ وہم ہوتا ہے ہماری خواتین کو