اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 188
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۸۸ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء اور ماؤں سے بہتر اور کون جانتا ہے کہ محبت کیسے دی جاتی ہے۔بچے بھی خواہ کسی مقام پر پہنچیں کسی ترقی کے آسمان تک پہنچیں جو رفعت ماں کی جھولی میں محسوس کرتے ہیں وہ کسی اور جگہ محسوس نہیں کرتے۔اسی لئے میں نے یہ مثال آپ کے سامنے رکھ دی ہے کہ ان کے بلند رونق اور چمکتے ہوئے معاشرے کے آسمان قائم ہیں۔ان آسمانوں سے ان تاروں نے ٹوٹنا قبول کر لیا، ان کو مٹی میں نہ ڈلنے دیں، ان کو خاک میں نہ بکھرنے دیں۔آپ کا فرض ہے اور خدا آپ کو پوچھے گا اگر ان گرتے ہوئے تاروں کو آپ نے اپنی جھولیوں میں نہ سمایا اور محبت نہ دی جیسی آپ اپنی اولادکو محبت دیتی ہیں۔پیار اور محبت سے آپ گروپوں میں بیٹھ کر یہ سوال کریں اور سیکھیں خود اپنی تربیت ساتھ ساتھ کرتی چلی جائیں اور اس کے ساتھ آپ ان نسلوں کی طرف بھی متوجہ ہوں اور اپنی نسلوں کی طرف بھی متوجہ ہوں۔اس ملک میں آنے کے بعد خود آپ کو بھی تو خطرے درپیش ہیں، آپ کی بیٹیاں بھی تو ایسے سکولوں میں داخل ہیں جہاں آزادی کے معنی بے حیائی کے لئے جاتے ہیں۔جہاں آزادی کے معنی یہ سمجھے جاتے ہیں کہ ایک لڑکی جو چاہے جس طرح چاہے لذتیں حاصل کرتی رہے کوئی اس کو روکنے والا نہ ہوا گر کوئی رو کے گا تو نفسیاتی طور پر اس کے دل میں زخم پیدا کر دے گا۔یا اس کے ذہنوں میں الجھن پیدا کر دے گا۔اس نظریے کے تعلیمی ماحول میں آپ کی بیٹیاں بھی تو جاتی ہیں۔جب تک آپ ان کو اپنے زیادہ قریب نہ رکھیں اور مسلسل ان کے قریب نہ رہیں، ان کو رفاقت عطا نہ کریں ، اور ان کو بھی مطمئن نہ کراتی چلی جائیں کہ اسلامی ماحول ان کو اپنی بہبود کے لئے اور بنی نوع انسان کی بہبود کے لئے زیادہ بہتر ہے اس وقت تک ان کے مستقبل کی بھی تو کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔نہایت ہی درد ناک المیہ ہو گا اگر وہ کہانی جو میں نے آپ کے سامنے بیان کی پرانے زمانوں میں نئے آنے والے احمدیوں کے متعلق کہ ان کی اولادیں کس طرح آہستہ آہستہ ضائع ہو گئیں۔خود آپ کے گھروں میں دہرائی جانے لگیں اور یہ خطرات فرضی نہیں ہیں، یہ حقیقی خطرات ہیں۔صاف نظر سے آپ ماحول کو دیکھیں آپ کو دکھائی دینے چاہئیں۔ابھی دو چار سال کے اندر ہی وہ خاندان جو یہاں آکر بسے ہیں۔ان کے اندر یہ خطرات عملی شکل میں ظاہر ہونے شروع ہو چکے ہیں۔ایسی بچیاں ہیں یہاں جن کی نظریں بدل رہی ہیں، جن کے رخ بدل رہے ہیں، ان کی باتوں کی طرز ایسی ہے جیسے وہ باہر جانے کے لئے پر تول رہی ہیں۔مائیں اگر اس وقت ان کا خیال نہیں کرتیں اور اس وقت وہ لرزتی نہیں اس خوف سے کہ خدا نے جو امانت ہمارے سپر د کی تھی ہم اس امانت کی حفاظت نہیں کر سکے اور خدا ہم سے پوچھے گا کہ کیوں تم نے اس