اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 183
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۸۳ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء سے وہ پیغام سنا، نہ اس پیغام کو زندہ رکھ سکے۔احمدیت کے مغرب میں فروغ کی تاریخ ایک بہت ہی دردناک تاریخ ہے۔جب اس پہلو سے ہم اس کو دیکھتے ہیں کہ جو لوگ احمدی ہوئے انہوں نے اپنی اولاد کی طرف توجہ نہ کی اور ان کی اولاد بجائے اس کے کہ اسلام پر پرورش پاتی اور اسلامی اقدار کی حفاظت پر کمر بستہ رہتی وہ رفتہ رفتہ واپس اپنے غیر اسلامی معاشرے میں ڈوب گئے۔نسلاً بعد نسل یہی ہوتا چلا گیا۔میں نے ایک دفعہ انگلستان میں مختلف وقتوں میں داخل ہونے والے احمدیوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جس حد تک وہ کوائف میرے سامنے آسکے اور میرے دل پر اتنا گہراغم کا اثر ہوا کہ بے چین ہو گیا کہ یہ کیا ہوتا رہا ہے۔ایک وقت میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انگلستان میں اس زمانے میں جب کہ انگریزی قوم کو اپنی دنیا پر برتری کا بے انتہا تکبر تھا۔عام آدمی نہیں صرف بلکہ لارڈز میں سے بعض نے احمدیت کو قبول کیا اور بڑی جرات کے ساتھ اعلان کیا کہ وہ اسلام جو اس جماعت کے ذریعے ہمیں پہنچا ہے وہ سچا ہے اور ہم یہ جرات رکھتے ہیں کہ اس کے ساتھ شامل ہو جائیں اور وابستہ ہو جائیں لیکن آگے وہ نسلیں کہاں گئیں کچھ پتہ نہیں چلتا۔پھر اس کے بعد مسلسل مختلف مبلغین کے ذریعے کثرت سے نہیں تو بیسیوں کی تعداد میں بلکہ ایک مبلغ کے دور میں 100 سے زائد ایسے خاندان آپ کو ملیں گے جو احمدیت سے وابستہ ہوئے۔اپنی زندگی تک وہ احمدی رہے بعض ان میں سے کمزور بھی پڑے لیکن اکثر اپنی زندگی تک احمدی رہے لیکن رفتہ رفتہ سرکتے سرکتے ان کی نسلیں احمد بیت سے بالکل غائب ہو گئیں۔یہاں تک کہ وہ اجنبی بنتے بنتے اتنی دور جا چکی ہیں کہ ان کو ڈھونڈنے کے لئے بھی بڑی جستجو کی ضرورت ہے۔میں نے حال ہی میں بعض خاندانوں کے متعلق جستجو کی تحریک کی تو بڑی مشکل سے بعض کا کھوج نکلا اور ان کے خاندان بات کریں تو مانتے ہیں کہ ہاں ہمارے والدین احمدی ہوئے تھے اور جماعت سے تعلق تھا لیکن ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔بنیادی خرابی وہی ہے کہ تربیت یعنی اولاد کی تربیت کی طرف اس وقت اس طرح توجہ نہیں دی گئی اور اس بات کی اہمیت نہیں بتائی گئی۔یہ سمجھا گیا کہ یورپین معاشرے میں سب لوگ آزاد ہیں۔ماں باپ ہو گئے تو ٹھیک ہے ان کے بچے اپنے حال پر رہیں گے۔یہ درست نہیں ہے۔ماں باپ پر فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کریں اس وقت تک کسی مذہب کا استحکام نہیں ہو سکتا جب تک نسلاً بعد نسل اس مذہب کو جسے اختیار کیا جاتا ہے اگلی نسلوں تک منتقل نہ کیا جائے اور نئی نسلیں بھی وہی جھنڈے لئے بلند ہورہی ہوں جو جھنڈے ان کے ماں باپ نے تھامے تھے اور ان کے ہاتھوں میں تھمائے گئے۔