اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 12

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۱۲ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء معاشرے کی حفاظت کی کوششیں یہ ساری تمہیں پاک کرنے کی خاطر ہی تو کی جاتی ہیں۔لیکن یاد رکھو کہ اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہو اور اس کی رحمت شامل حال نہ ہو تو تم میں سے کبھی کوئی پاک نہیں ہوسکتا۔وَلَكِنَّ اللهَ يُزَكِّي مَنْ تَشَاءُ اللہ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے۔وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ اور اللہ تعالیٰ بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔سیہ وہ قرآن کریم کی آیات ہیں جو مجھے مجبور کر رہی ہیں کیونکہ میں جانتا ہوں اور ایسے حالات میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔باہر کی دنیا میں بھی جہاں اب پاکستانی عورتوں نے غیر معاشرے سے متاثر ہو کر بے پردگی شروع کی۔چونکہ وہ برقع سے باہر نکلی تھیں اس لئے ایک ایسی کیفیت پیدا ہوئی کہ ان کی بچیوں نے سمجھا کہ اب پردہ اٹھ گیا ہے اور اس بے احتیاطی کی سزائیں ان کو ملیں۔چنانچہ بہت سی ان میں سے ایسی تھیں جو واپس برقعوں میں آئیں۔بلکہ امریکہ کی سوسائٹی کا تو یہ حال ہے کہ انہوں نے صرف چادر نہیں کی بلکہ اس غرض سے برقع پہنا کہ وہ کہتی ہیں کہ اگر ہم برقع نہ پہنیں تو پوری طرح ہم اقدار کی حفاظت نہیں کر سکتیں لیکن جب وہ واپس آئیں اس سے پہلے کیا حال ہو چکا تھا ایسی بھی بعض بچیاں ہیں جوسکھوں کے ساتھ بھاگ گئیں۔ایک واقعہ ہے یہ لیکن بڑا ہی دردناک واقعہ ہے۔ایسی بھی بچیاں ہیں جنہوں نے ماں باپ سے آنکھیں پھیریں اور عیسائی لڑکوں کے ساتھ بھاگ گئیں۔شاید دو واقعات ایسے ہوں لیکن ناسور کی طرح دکھ دینے والے واقعات ہیں۔یہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے میرا دل بے چین اور بے قرار ہے کہ میں آپ کو بار بار توجہ دلاؤں کہ اسلامی قدروں کی حفاظت کے لئے واپس آؤ۔پھر اس میں بعض دفعہ دوسروں سے بھی پیچھے رہ جاتا ہے۔جو چیزیں جائز ہیں وہ بھی بعض دفعہ خدا کی خاطر چھوڑنی پڑتی ہیں اور جو کام فرض نہیں وہ بھی کرنے پڑتے ہیں ایسے بھی حالات آجایا کرتے ہیں۔کہاں لکھا ہوا ہے کہ عورتیں گوٹہ کناری استعمال نہ کریں لیکن جب وقت کی ضرورت تھی اور خلیفہ وقت نے حکم دیا تو عورتوں نے اپنے ہاتھوں سے کنگن اتار دیئے۔بڑے بڑے امراء جن کو عادت تھی تنعم کی زندگی کی وہ ایک کھانے پر آگئے اور شادی بیاہ میں بھی گوٹہ کناری سے احتراز ہونے لگے۔احمدی عورت کا ایک کردار تھا وہ اپنے عہد کی سچی تھی۔وہ خلافت کی بیعت کرتی تھی پورے دل کے خلوص کے ساتھ اور اس کے بعد پھر یہ نہیں کہا کرتی تھی کہ یہ حکم کیوں دیا جارہا ہے اور کیوں ہم پر زیادتی کی جارہی ہے۔احمدیت نے ایسی ایسی شاندار مائیں پیدا کی ہیں کہ ان کی عظمت کو دیکھتے ہوئے عام