اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 155
حضرت خلیفت صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۵۵ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء اسلام میں عورت کا مقام (جلسہ سالانہ مستورات برطانیہ سے خطاب فرموده ۱۲ اگست ۱۹۸۹ء) حضور رحمہ اللہ نے خطاب سے قبل فرمایا: یہ جو نعرے آپ نے سنے ہیں یہ غانا کی ایک خاتون لگا رہی تھیں۔اس سے پہلے جماعت احمدیہ میں ، قادیان میں یار بوہ میں عورتوں میں نعرے لگانے کا رواج نہیں تھا۔اس کی وجہ مجھے سمجھ نہیں آئی غالباً معاشرہ کی روایات کے تابع یہ بات ہو رہی تھی۔جب میں غانا گیا یا افریقہ کے دوسرے ممالک میں بھی گیا لیکن خصوصیت سے غانا میں تو ہزار ہا احمدی خواتین سفید لباس میں ملبوس وہ ایئر پورٹ سے باہر انتظار فرما رہی تھیں اور پھر ایسے فلک شگاف نعرے اُنہوں نے لگائے اور ویلکم (Welcome) کے نغمے بھی ساتھ گائے کہ اُس سے ساری فضا میں ارتعاش پیدا ہو گیا۔اس کی جب فلمیں یہاں لنڈن میں دکھائی گئیں تو یہاں بھی عورتوں میں بہت جوش آگیا انہوں نے کہا۔ہم کیوں محروم رہیں، ہم بھی آخر خواتین ہیں، ہمارا بھی حق ہے، تو انہوں نے بھی پھر یہ شروع کر دیا۔اب جب میں کل افریقہ کے وفد سے ملنے گیا ہوں تو وہاں اُسی طرح سفید لباس میں ملبوس ایک چھوٹا سا وفد آیا ہوا تھا انہوں نے پھر اُن نعروں کی اور نغموں کی تکرار کی تو میں نے چاہا کہ آپ سب بھی اُس نظارے میں اور وہ جو روحانی لذت حاصل ہوتی ہے اُس میں شریک ہو جائیں۔تو آج میری فرمائش پر انشاء اللہ تلاوت اور نظم کے بعد یہ افریقہ سے آئی ہوئی خواتین آپ کے سامنے وہی مظاہرہ فرما ئیں گی۔خصوصیت سے غانا میں جب انہوں نے درود شریف پڑھا ہے تو بہت ہی خاص انداز میں بہت ہی پیاری ئے کے ساتھ پڑھا ہے۔وہ ایک غیر معمولی تجربہ ہے جس سے آپ اُمید ہے لذت پائیں گی۔(اس کے بعد حضور نے مکرمہ عارفہ امتیا ز صاحبہ کو تلاوت قرآن کریم کے لئے بلایا )