اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 146
حضرت خلیفہ امسح الرابع" کے مستورات سے خطاب خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء آپ کی آپ جس طرح چاہیں تقسیم کرائیں۔جو چاہیں تصرف کریں ہمارا تو کچھ بھی نہیں۔جب ان کا اپنے بھائی سے جھگڑا ہوا، کسی اور احمدی سے اور قضاء میں اپیل در اپیل ہوکر میرے پاس فیصلہ پہنچا اور جب میں نے فیصلہ دیا تو ان لوگوں نے لکھنا شروع کیا کہ آپ میں تو انصاف ہے ہی کوئی نہیں۔دعوے کرتے ہیں کہ آپ دنیا میں انصاف کو قائم کریں گے اور یہ آپ کا حال ہے۔تو انسان اس وقت آزمایا جاتا ہے جب وہ خود ان تجارب سے گزرے۔دراصل یہ بیماری پہلے ہی ان لوگوں میں موجود تھی وہ بدظنی کرنے والے ہیں اور جب تک خود ایسے امتحان میں مبتلا نہیں ہوئے جہاں خلیفہ وقت کو بھی ان کی بدظنی نے نشانہ بنالیا۔اس وقت تک ان کا پتہ نہیں لگتا تھا۔آپ کے تقوی اور اخلاق کی حالتیں صرف اللہ بہتر جانتا ہے۔جذباتی طور پر آپ کے دل میں جو محبتیں پیدا ہوتی ہیں نظام جماعت کے لئے ، احمدیت کے لئے ،اسلام کے لئے اس وقت تک ہیں جب تک آپ کی آزمائی نہیں جاتیں۔جب اختلاف شروع ہوجا ئیں جب فیصلوں کے وقت آئیں ، جب کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کرنا پڑتا ہے اور کسی ایک فریق کے خلاف کرنا پڑتا ہے اس وقت متقی وہی ہے جو بدظنی سے کام نہ لے۔خلیفہ وقت کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں ، ایک ادنیٰ غلام کا غلام ہونے پر بھی فخر کرتا ہے۔خود حضور اکرم ﷺ کے اوپر اس قسم کی زبان طعن دراز کی گئی اور قرآن کریم نے اس کو محفوظ کیا ہے یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے بدظنی پر اپنے آپ کو چھٹی دے دی تھی چنانچہ فرمایا کہ بعض رسول کریم عے پر بھی الزام لگاتے ہیں ، کہ یہ کان ہے لوگوں کی باتیں سنتا رہتا ہے اور یک طرفہ باتیں سن کر فیصلہ دے دیتا ہے اور یہی الزام ہے جو آج تک اسی طرح چلا آ رہا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کان ضرور ہے لیکن تمہارے لئے رحمت اور شفقت کا کان ہے۔تمہارے خلاف باتیں سنے والا کان نہیں بلکہ تم سے بے انتہا محبت کرنے والا وجود ہے۔اس کان تک جو یہ بات پہنچتی ہے وہ ناممکن ہے کہ اس کے دل میں یکطرفہ کسی کے خلاف غیظ پیدا کر دے أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُم یہ جواب دیا خدا تعالیٰ نے۔یہ تمہارے لئے خیر کا کان ہے لیکن بدقسمتی سے یہ اس وقت سے یہ بیماری چلی آرہی ہے۔میں نے دیکھا ہے گذشتہ دو خلفاء کے وقت بھی یہی بیماری موجود تھی آج بھی موجود ہے۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے بعض ظالم رسول اکرم ﷺ پر یہ تہمت بھی لگاتے تھے کہ مال کے لحاظ سے کچا ہے یعنی امراء کی ہمدردی کردے گا اور غرباء کو نظر انداز کر دے گا۔مال تقسیم کرنا ہو تو اپنوں کو