اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 143

حضرت خلیفتہ امسح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۴۳ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء فرمایا کہ ٹھیک ہے عرب جہلاء تھے مگر دیکھو انہی جہلاء میں سے دنیا کا سب سے بڑا عالم خدا نے پیدا کر دیا۔ایسا عالم جو دوسروں کا معلم بن گیا اور محض ظاہری علم نہیں دیتا بلکہ انہیں تقویٰ بھی عطا کرتا ہے، انہیں نیکی عطا کرتا ہے، عقلوں کی جڑ عطا کرتا ہے اور حکمت بھی انکو سکھاتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو اس مضمون سے ملتا جلتا ہے جو یہاں بیان ہوا کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو جن پر تم آج تمسخر اڑا رہے ہو ہوسکتا ہے کل بہتر کر دے۔چنانچہ اس کی ایک مثال عرب میں آپ کے سامنے ظاہر ہوئی دوسری اس دور میں پنجاب میں آپ کے سامنے آئی یہ دونوں تو میں ایسی تھیں جن کو باہر کے لوگ اجڑ ، بے وقوف اور جاہل کہا کرتے تھے اور انہی میں سے خدا نے دنیا کا معلم اور دنیا کوحکمتیں سکھانے والے پیدا کر دئیے۔چنانچہ فرمایا ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ یہ خدا کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جب خدافضل عطا کیا کرتا ہے تو یہ نہیں دیکھا کرتا کہ کوئی جولاہا ہے یا میراثی ہے یا موچی ہے یا لوہار ہے یا زمیندار ہے ترکھان ہے یا قریشی ہے یا سید ہے یا مغل ہے یا پٹھان۔خدا کے نزدیک ان قوموں کی کوئی حیثیت نہیں، سب انسان ہیں۔وہی معزز ہے جو متقی ہو اور جو تقویٰ اختیار کرے اس پر خدا افضل فرماتا ہے اور اتنے فضل فرما دیتا ہے کہ ساری دنیا ان کو رشک سے دیکھنے لگتی ہے فرمایا وَلَا نِسَاء مِنْ نِسَاء عورتیں بھی یاد رکھیں کہ اپنی بہنوں سے تمسخر نہ کیا کریں اوران کو نیچا نہ دکھایا کریں۔پھر فرمایا وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات :۱۲) کہ تم ایک دوسرے کے اوپر طعن نہ کیا کرو۔انفسکم کا ترجمہ عموماً آپ کو ملتا ہے مگر ایک دوسرے مگر اس میں خاص طور پر یہ مفہوم پیش نظر رکھنا چاہئے انفسکم کا مطلب ہے اپنے اوپر خود اپنے لوگوں پر ظلم نہ کیا کرو کیونکہ اس کا نقصان تمہیں پہنچے گا۔اگر انسان اپنے اوپر حملہ کرے تو آپ زخمی ہوگا۔مراد یہ ہے کہ یہ خود کشی ہے۔تم سمجھتی ہو کہ تم دوسری عورتوں کا مذاق اڑار ہی ہو اپنی ساتھیوں اور بہنوں پر لیکن بحیثیت قوم تم اپنے آپ کو ذلیل کرتی چلی جاتی ہو اور اس کا قومی نقصان تمہیں پہنچے گا۔ولا تنابزوابالالقاب اور نام نہ رکھا کرو یعنی بیہودہ چڑانے والے نام جیسے کہتے ہیں چھٹکل ہے ، قد چھوٹا ہے بے چاری کا۔بونی ہے یا کوئی کالی کلوٹی ہے، جشن ہے، جھینگی ہے، یہ ہے، وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے جس طرح کسی کو پیدا کر دیاوہ بے اختیار ہے اور بے اختیار پر حملہ سب سے ذلیل چیز ہے۔قوموں میں تو کچھ اختیار بھی ہوتا ہے انسان ترقی کر جاتا ہے محنت کر کے لیکن خدا نے بعض لوگوں کو بعض حالتوں میں پیدا کیا اس کو تبدیل نہیں کر سکتے۔