اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 8

خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات کہاں وہ علاقے ہیں اور جو چادر لے رہی ہیں ان کا طریق کار کیا ہے۔کیا وہ فیشن کی غلام ہیں یا واقعہ ضرورت کی غلام ہیں اور مجبور ہیں اور پوری طرح اپنی حفاظت کرتی ہیں۔پھر اگر وہ چادر لیتی ہیں تو یہ ان کا کام ہے یعنی جماعت کا نظام ان مستورات کے متعلق فیصلہ کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے لئے زیادہ مصیبت مول لیتی ہیں۔واقعہ اگر کوئی عورت پوری طرح پردہ کرنا چاہے تو برقع آسان ہے بنسبت چادر کے۔چادر تو ڈھلکتی ہے اس کو سنبھالنا پڑتا ہے ، گھونگھٹ کھینچنا پڑتا ہے اور کئی قسم کی مصیبتیں ساتھ لگی ہوئی ہیں۔بڑی مشکل کے ساتھ چادر کے ساتھ انسان اپنے پردے کی حفاظت کرتا ہے۔برقع تو ایک آسان طریق تھا۔پس اگر وہ ماڈرن سوسائٹی کے اثرات یا اس کی باتوں سے متاثر ہوئے بغیر بعض علاقوں کے رواج کے پیش نظر ایسا کرتی ہیں تو جماعت کا کام ہے، ہم تحقیق کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ اور جماعتی نظام کے تابع ان کو اجازت دی جائے گی لیکن اس حد تک جس حد تک ان کا پردہ اسلامی ہے۔اگر وہی چادر میں خطرہ محسوس ہوا کہ ان کی بچیاں غلط استعمال کرنے لگی ہیں، نئی سوسائٹی میں آکر اس کے بداثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں تو اس سے بھی روک دیا جائے گا۔تو بعض ایسی عورتوں کو بھی ممکن ہے ٹکٹ نہ ملا ہو جو حق رکھتی ہوں اور ان کے دل میں شکوہ پیدا ہوا ہو۔جہاں تک اس کے رد عمل کا تعلق ہے بڑی دلچسپ رپورٹیں آئی ہیں وہ میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔ہماری ایک باجی جان ہیں ان کا شروع سے ہی پردے میں سختی کی طرف رجحان رہا ہے کیونکہ حضرت مصلح موعود کی تربیت میں جو پہلی نسل ہے ان میں سے وہ ہیں۔جو گھر میں مصلح موعود کو انہوں نے کرتے دیکھا جس طرح بچیوں کو باہر نکالتے دیکھا ایسا ان کی فطرت میں رچ چکا ہے کہ وہ اس عادت سے ہٹ ہی نہیں سکتیں۔ان کے متعلق بعض ہماری بچیوں کا خیال ہے کہ : اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو پاگل ہو گئے ہیں پرانے وقتوں کے لوگ ہیں ایسی باتیں کیا ہی کرتے ہیں لیکن اگلے وقت کون سے؟ میں تو ان اگلے وقتوں کو جانتا ہوں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اگلے وقت ہیں اس لئے ان کو اگر اگلے وقتوں کا کہہ کر کسی نے کچھ کہنا ہے تو اس کی مرضی ہے وہ جانے اور خدا کا معاملہ جانے لیکن یہ جو میری بہن ہیں واقعہ تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اس بات پر سختی کرتی تھیں۔چنانچہ اس دفعہ مسیح کے ٹکٹوں کی خصوصاً ایک حلقہ کے ٹکٹوں کی ذمہ داری ان پر عائد کی گئی۔نظارت اصلاح وارشاد نے جہاں اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کیا میں نے ان کی جواب طلبی کی ہے وہاں انہوں نے ذمہ داری کو