امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 236
کسی یادداشت میں ریکارڈ نہیں تھی۔کیونکہ ان کے زمانہ میں نہ ایسی یادداشت رکھنے کا رواج تھا اور نہ ہی اس زمانے کا کوئی سرکاری رجسٹر یا ریکارڈ موجود ہے۔چنانچہ ان کی تاریخ پیدائش یا عمر کے بارے میں کوئی اندازہ ان کے اپنے الہامات، یا ان کی تحریرات یا ان کے ہمعصروں کی روایات سے ہی لگایا جا سکتا تھا۔خود اپنی عمر کے بارے میں حضرت مرزا صاحب نے براہین احمدیہ میں لکھا:۔عمر کا اصل اندازہ تو خدا تعالیٰ کو معلوم ہے مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے اب اس وقت تک جو سنہ ہجری 1323 ہے میری عمر ستر 70 برس کے قریب ہے۔واللہ اعلم۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 193) مرزا صاحب کے اپنے الہامات اور نعمت اللہ ولی کی پیشگوئی پوری طرح سے حضرت مرزا صاحب پر صادق آتی ہے اور مرزا صاحب کی عمر اور نعمت اللہ ولی کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے بارے میں کوئی بات مبہم نہیں رہتی۔کیونکہ مرزا صاحب کو قریباً40 سال کا عرصہ حسب پیشگوئی نعمت اللہ ولی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا۔مرزا صاحب کے سوانح نگاروں نے علم تقویم کے ذریعے بھی مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش اور عمر متعین کی ہے۔1۔حضرت مرز اصاحب فرماتے ہیں:۔وو یہ عاجز بروز جمعہ چاند کی چودھویں تاریخ میں پیدا ہوا ہے“۔(روحانی خزائن جلد17 صفحه 281 ـ تحفہ گولڑویہ طبع اوّل صفحه110 حاشیه) 2 ” میری پیدائش کا مہینہ پھا گن تھا۔چاند کی چودھویں تاریخ تھی جمعہ کا دن تھا اور پچھلی رات کا وقت تھا۔(ذکر حبیب صفحہ 239,238 از حضرت مولوی محمد صادق) اب مندرجہ بالا قطعی اور یقینی تعین سے کہ جس میں کسی غلطی یا غلط فہمی کی گنجائش نہیں۔236