امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 235
کی تاریخ پیدائش عیسائی محققین کے نزدیک بھی صدیوں سے باعث نزاع رہی اور ایک قول کے مطابق سال کے بارہ مہینوں میں کوئی مہینہ ایسا نہیں جس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن کسی محقق نے تجویز نہ کیا ہو۔آج بھی عیسائی دنیا 25 دسمبر کو یوم ولادت مسیح کے طور پر مناتی ہے۔حالانکہ قرآن کریم کی رو سے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ایسے موسم میں ہوئی جب کہ کجھوریں پکی ہوئی تھیں اور اناجیل کے بیان کے مطابق گڈریئے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ باہر کھلے کھیتوں میں رات گزار رہے تھے۔تاریخ انسانی کے اشرف ترین وجود فخر موجودات سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شریف اور تاریخ پیدائش کے بارے میں بھی اہل علم اور اہل تحقیق نے اختلاف کیا اور بحثیں کیں۔چنانچہ لکھا ہے:۔عمر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ساٹھ برس کی اور بعضے باسٹھ برس چھ مہینے کی اور بعضے پینسٹھ برس کی کہتے ہیں۔مگر ارباب تحقیق ترسٹھ برس لکھتے ہیں“۔(احوال الانبیاءجلد 2 صفحہ 330 مطبوعہ 1924 ءاز مولوی ابوالحسن کا کوروی ) اگر احمدی محققین حضرت مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش کے بارے میں تحقیق و جستجو سے کام لیں اور اس کے بارے میں مختلف دلائل و قرائن اور واقعات وشواہد یا روایات و بیانات کی چھان پھٹک کریں تو کسی اہل علم کے نزدیک محل اعتراض نہیں ہوسکتا تھا۔مگر عدالت نے جس انداز میں اس علمی تحقیق کو بھی محل اعتراض ٹھہرایا وہ عدالت کے اندرونی تعصب اور بغض کی نشاندہی کرنے کے لئے کافی ہے اور جو نتیجہ عدالت نے اخذ کیا وہ یقیناً مبنی بر تعصب ،غلط اور بے بنیاد ہے۔حضرت مرزا صاحب کے سوانح نگاروں نے مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش کے بارے میں قابل تعریف تحقیق و تدقیق سے کام لیا، حضرت مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش معین طور پر 235