امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 309
ضروری نہیں تھا۔لیکن چونکہ عدالت نے فیصلے میں ان امور کو شامل کر کے سائلان کے خلاف مواد مہیا کیا ہے اس لئے یہ حصہ بھی حذف کئے جانے کے لائق ہے۔اگر عدالت سائلان کو موقعہ ہم پہنچاتی تو سائلان قرآن حکیم کی تعلیم عدالت کے سامنے پیش کرتے اور یہ بات واضح ہو جاتی کہ قرآن شریف کی رو سے جہاد کی تین اقسام ہیں:۔اول : جہاد کبیر یعنی تبلیغ _ فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِيْنَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَاداً كَبِيراً (فرقان : 53) اے نبی کفار کے ساتھ قرآن کریم کے دلائل کے ذریعہ جہاد کر یعنی انہیں تبلیغ کر۔یہ جہاد ہر مسلمان پر ہر وقت فرض ہے۔دوم: جہادا کبر۔یعنی تربیت نفس۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا:۔رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْاكْبَرِ (ردالمختار کتاب الجهاد صفحه 120 جلد نمبر 4 از محمد امین کہ ہم جہادِ اصغر یعنی جنگ سے واپس ہو کر جہادا کبر یعنی اپنی تربیت اور اصلاح نفس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔سوم : جہاد اصغر یعنی جنگ۔مذکورہ بالا حدیث سے دشمن کے ساتھ جنگ کا جہاد اصغر ہونا ثابت ہوتا ہے۔جہاد بالسیف کے لئے اسلام نے کچھ شرائط مقرر کی ہیں۔جب وہ شرائط موجود ہوں گی تو جہاد بالسیف فرض ہو جائے گا اور جب وہ شرائط مفقود ہوں گی تو جہاد بالسیف جائز نہ ہوگا۔جس طرح سے اسلامی عبادت سے دوسرے احکام، اوقات اور دیگر شرائط کی پابندی سے ادا کئے جاتے ہیں جہاد اور قتال کی بھی مختلف اور معین شرائط ہیں جن کے بغیر جہاد فرض نہیں ہوتا فرض نماز اپنے وقت پر ادا ہوتی ہے اور جو وقت پر ادا نہ ہو وہ قضا ہو جاتی ہے لیکن 309