امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 308
سب سے پہلے نسخ فی القرآن کے عقیدہ کو رڈ کیا جب کہ ان سے پہلے لوگ کبھی پانچ سو بھی ہیں اور کبھی پانچ آیات کو منسوخ قرار دیتے رہے۔جماعت احمدیہ کسی ایک آیت کو بھی منسوخ نہیں مانتی۔ایسے شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ اُس نے نصوص قرآن پر مبنی جہاد کو منسوخ کر د یا سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔عدالت نے جہاد کے موضوع پر بھی یکطرفہ طور پر قلم اُٹھایا ہے اور وہ امور جن پر استدلال کیا گیا ہے وہ عدالت کے زیر بحث نہ لائے گئے اور نہ ہی عدالت نے سائلان کی بحث کو سمجھا اور نہ ہی جہاد کے بارے میں قرآن حکیم کی پُر حکمت تعلیم پر غور کیا۔آج جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک آزاد ملک عطا کیا ہے اور انگریز کی حکومت یہاں ختم ہو چکی ہے اس زمانہ کے ماحول اور پس منظر کو نظر انداز کر کے اعتراضات کی ایک بنیاد اُٹھانا اور بات ہے اور تاریخ پر نظر رکھتے ہوئے اس دور کے حالات اور ماحول کو سمجھنا اور بات ہے جب تک انگریز کی حکومت یہاں قائم تھی جماعت احمدیہ کے وہی معاندین جن کی تحریروں کی بنیاد پر عدالت نے حضرت مرزا صاحب کے خلاف منسوخی جہاد کے الزام کو اپنے فیصلہ میں جگہ دینے کو روا سمجھا ہے وہی حکومت برطانیہ کے پاس یہ نالش لے لے کر جاتے تھے کہ مرزا صاحب مہدی ہونے کے دعویدار ہیں اس لئے مہدی سوڈانی کی طرح حکومت کے لئے خطرہ ہیں اور حکومت کے خلاف جہاد کے قائل ہیں اور آج وہی علماء ان پر منسوخی جہاد کا الزام عائد کرتے ہیں۔جہاں تک برطانوی حکومت ہند سے ہندوستان میں جنگ نہ کرنے اور ہندوستان کے دار الحرب یا دار السلام ہونے کا سوال تھا وہ سوال مرزا صاحب کے دعویٰ سے بہت پہلے ہندوستان کے علماء اور مجتہدین طے کر چکے تھے اور اس بارہ میں جو دلائل اور حوالہ جات سائلان کی طرف سے پیش کئے گئے عدالت ان کو ر ڈ نہیں کرسکی اور ان کا سرسری ذکر کر کے اپنے پہلے سے طے شدہ نتائج پر پہنچ گئی ہے۔ہر چند کہ یہ معاملہ بھی مقدمہ کے تصفیہ کے لئے 308