امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 307 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 307

پیش کرتے۔محض مخالفین کی تحریرات سے ادھورے اور نامکمل اقتباسات کی بنیاد پر غلط استدلال قائم کیا گیا اور ناروا نتائج اخذ کئے گئے لہذا یہ حصہ بھی حذف کئے جانے کے لائق ہے۔(8) عدالت نے فیصلہ کے صفحہ نمبر 91,92 اور صفحات نمبر 146 تا نمبر 149 پر اس امر کا ذکر کیا ہے کہ مرزا صاحب نے جہاد کو منسوخ قرار دے دیا تھا۔جیسا کہ اصولی طور پر یہ بات بیان کی جا چکی ہے اس امر کا بھی مقدمہ کے فیصلہ سے کوئی دور کا تعلق بھی نہ تھا۔اور عدالت نے محض اپنے تعصب کی بناء پر جماعت احمدیہ کے خلاف فضاء کو مسموم کرنے کے لئے یکطرفہ طور پر معاندین احمدیت کے ایسے حوالہ جات پر انحصار کیا جو مرزا صاحب کی تحریرات سے قطع و برید کر کے غلط نتائج اخذ کر کے تیار کئے گئے تھے۔جہاد کے بارے میں وکیل سرکار نے جو بحث اٹھائی تھی اور جو استدلال کیا تھا اس کے جواب میں سائلان کی نہایت جامع و مانع مدلل بحث کا ایک مختصر خلاصہ، خلاصہ بحث کے صفحات نمبر 110 سے 114 میں پیش کیا گیا۔جس میں سائلان کی طرف سے یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ عدالت میں پیش کر دی گئی تھی کہ مرزا صاحب نے ہرگز ہرگز جہاد کو منسوخ قرار نہیں دیا۔صفحہ نمبر 92 میں عدالت کا یہ کہنا کہ:۔وو مرزا صاحب نے قرآنی نصوص پر مبنی جہاد کو منسوخ کرنے کا حق بطور نبی کے استعمال کیا“۔سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے۔مرزا صاحب اور جماعت احمدیہ قرآن شریف کی کسی آیت بلکہ کسی آیت کے کسی حصہ کو بھی کسی مفہوم میں منسوخ نہیں مانتے بلکہ مرزا صاحب نے 307