امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 234
جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں اعتقادی امور پر بحث سرے سے ہی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں تھی۔تاہم عدالت نے تمام عدالتی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے متعدد امور اپنے فیصلہ میں شامل کئے جو قطعاً غیر متعلق اور مسئلہ زیر بحث کے تصفیہ کے لئے قطعا غیر ضروری تھے۔چنانچہ مسئلہ ختم نبوت کے بارے میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ کس طرح عدالت نے اس مسئلہ پر ایک غلط مفروضہ کو بنیاد بنا کر بحث اٹھائی اور کس طرح غلط نتائج اخذ کر کے یکطرفہ طور پر فیصلہ میں شامل کر دیئے۔جو گزارشات ہم اوپر کر آئے ہیں ان میں یہ بات واضح ہے کہ ختم نبوت کے بارہ میں نہ تو عدالت نے اولیاء اور صلحائے امت کے تواتر اور مسلک کو صحیح طور پر سمجھا اور نہ ہی اس مسئلہ پر محققانہ طو پر کوئی رائے قائم کی۔(2) ایک قطعی طور پر غیر متعلقہ سوال جو عدالت نے اُٹھایا وہ حضرت مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش اور عمر سے تعلق رکھتا ہے۔عدالت نے فیصلہ کے صفحہ 34 تا 38 میں اس غیر متعلقہ بحث کو جگہ دی اور مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش کے بارہ میں ایک علمی تحقیق کو وجہ اعتراض بنایا۔حالانکہ اہل علم پر یہ بات روشن ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے کسی ایک کی بھی متفق علیہ تاریخ پیدائش محفوظ نہیں۔وہ یگانہ روزگار وجود جو دنیا کی تاریخ میں مینار ہدایت بن کر ابھرتے ہیں ان کی پیدائش کے وقت دنیا کی نظر کبھی یہ نہیں دیکھ سکتی کہ وہ تاریخ انسانی میں کیا مقام پیدا کریں گے اور جب وہ صفحہ تاریخ پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں تو ان کی تاریخ پیدائش کی تلاش اور جستجو اور تحقیق شروع ہو جاتی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام جن سے حضرت مرزا صاحب کو اپنے مقام کے اعتبار سے ایک گونہ مماثلت کا دعویٰ تھا۔خودان 234