نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 26 of 40

نزولِ مسیح — Page 26

ترجمہ اس آیت کا یہ ہے کہ :۔"یہودیوں نے تدبیر کی (یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر مارنے کا منصوبہ کیا) اور خدا نے بھی تدبیر کی (ان کو بچانے کی) اور خدا تدبیر کرنے والوں میں سے بہتر ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے کہا۔اے عیسی ! میں تجھے طبعی موت دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں (یعنی طبیعی موت بھی با عزت حالت دوں گا) اور تجھے کافروں کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھنے والا ہوں۔" اس آیت میں رَافِعُكَ إِلَى کا وعدہ مُتَوَفِّیک کے وعدہ کے بعد مذکور ہے۔چنانچہ اس وعدہ کے مطابق خدا تعالی نے آپ کو صلیبی موت سے بچا کر طبیعی وفات بھی دی اور پھر باعزت طریق سے کامیابی کی حالت میں وفات دے کر اپنے حضور آپ کے مدارج بلند کر دیئے۔اس وعدہ رَافِعُكَ إِلَى کا ایجاد آیت بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ مِیں مذکور ہے۔پس اس جگہ رفع جسمانی ہرگز مقصود نہیں۔خدا کی طرف بندے کا رفع جسمانی محال ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ ہر بندے کے ساتھ ہے۔وہ فرماتا ہے نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (ق:۱۷) کہ ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔پس خدا اور بندے کے درمیان کوئی فاصلہ تجویز نہیں ہو سکتا کہ اس کی طرف رفع جسمانی مراد لیا جا سکے کیونکہ رفع جسمانی مراد لینے سے خدا تعالی کا محدود المکان ہونا لازم آتا ہے۔اس جگہ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک اور ضروری نکتہ آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ سے پہلے مَكَرُوا ومكر الله وَ اللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ کے الفاظ میں یہود کی تدبیر کا مقابلہ تدبیر سے کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ مع روح و جسم آسمان پر اٹھا لینا