نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 20 of 40

نزولِ مسیح — Page 20

أقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا قَادُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلى كُلّ شَيْ شَهِيدٌ - إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وإِن تَغْفِرْ لَهُمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ یعنی میں اس وقت وہی کہوں گا جس طرح خدا کے نیک بندے عیسی بن مریم نے کہا کہ میں ان کا اس وقت تک ہی نگران تھا۔جب تک ان میں موجود تھا۔پس جب تو نے مجھے وفات دے دی تو ان کا تو ہی نگران تھا۔جب آنحضرت میں ایم کے اس بیان میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کے معنی ” وفات دے دی تو نے مجھے " کئے جاتے ہیں تو یہی معنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان کے ہونگے۔رسول الله من عالم نے حضرت عیسی علیہ السلام کے الفاظ میں ہی یہ بیان اپنی برأت میں دے کر اس امر پر خود روشنی ڈال دی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بیان میں بھی تَوَفَّيْتَنِن کے معنی وفات دی تو نے مجھے " ہی مراد ہیں۔اسی تقسیم کے ماتحت امام بخاری علیہ الرحمہ اس حدیث کو حضرت مسیح علیہ السلام کے قرآن مجید میں ذکر کردہ بیان کی تفسیر میں لائے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں رسول اللہ الم نے اقول ایک سوال ما قَالَ نہیں فرمایا بلکہ اقولُ كَمَا قَالَ فرمایا ہے یعنی یہ نہیں فرمایا کہ میں وہ بات کہوں گا جو عیسی بن مریم نے کی بلکہ یہ فرمایا ہے کہ میں اس جیسی بات یعنی اس کے لگ بھگ بات کہوں گا۔پس رسول اللہ اور ان کے الفاظ اور ہوں گے اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے الفاظ اور ہونگے۔دونوں کے الفاظ کا ایک ہونا اس جگہ کیسے مراد لیا جا سکتا ہے؟