نزولِ مسیح — Page 30
مگر مولوی ابو الاعلیٰ صاحب فرماتے مودودی صاحب کی بے سلیقہ بات ہیں:۔" جو لوگ قرآن کی آیات سے مسیح کی وفات کا مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں وہ دراصل یہ ثابت کرتے ہیں کہ اللہ میاں کو صاف سلجھی ہوئی عبارت میں اپنا مطلب ظاہر کرنے کا سلیقہ نہیں ہے۔" ( تفسیم القرآن صفحه ۲۵۸ جلد اول مرکنٹائل پریس لاہور طبع اول ۱۹۵۱ء) مودودی صاحب نے اس جگہ کیا عجیب بات کہی ہے جو خود ان کے اپنے ہی بیان پر چسپاں ہوتی ہے نہ کہ ہمارے بیان پر۔ہمارا بیان تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق متنازع فیہ دو آیتوں کے علاوہ تیئیس جگہ تو فی کا لفظ انسانوں کے قبض روح اور وفات کے معنوں میں ہی استعمال فرمایا ہے نہ کہ واپس لے لینے کے معنوں میں۔اگر ان سب مقامات میں قبض روح اور وفات کے معنوں میں خدا تعالی کا یہ لفظ استعمال کرنا عین سلیقہ شعاری اور سلجھا ہوا طریق ہے تو حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے یہ لفظ وفات کے معنوں میں استعمال شدہ تصور کرنے میں کیا الجھن اور بے سلیقگی متصور ہو سکتی ہے ؟ خدا تعالی کا تو طریق ہی یہ ہے کہ وہ جہاں انسان کے لئے توفی کا لفظ استعمال فرماتا ہے۔اس سے اس کی مراد قبض روح یا وفات دیتا ہی ہوتی ہے۔لہذا ان معنوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق تو فی کا لفظ استعمال کرنے میں خدا تعالی کا بے سلیقہ ہونا تو لازم نہیں آتا البتہ مودودی صاحب کی بے سلیقگی اور طبیعت کا الجھاؤ ضرور ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اس لفظ کے مجازی معنی میں استعمال کے محل پر اس کے لغوی معنوں میں استعمال کا دعوی کر کے لاریب اپنی بے سلیفگی کا ثبوت دے رہے ہیں۔