نزولِ مسیح — Page 16
17 معبود مانو؟ (جیسا کہ رومن کیتھولک عیسائیوں کا مذہب ہے) حضرت عیسی علیہ السلام جواب میں کہیں گے:۔H سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِى أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِى بِحَقِّ إِنْ كُنْتُ (المائدہ:۱۱۷ ۱۱۸) قُلْتُه فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِ وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ اَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إلا ما أمرتين به أنِ اعْبُدُوا الله ربي ورَبَّكُمْ۔یعنی اے خدا! تو اس عیب سے پاک ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو اور تیرے علاوہ عبادت کیا جانے کا مستحق ہو اور میری شان کے خلاف تھا کہ میں انہیں وہ بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں۔اگر میں نے انہیں ایسی بات کہی ہے تو تو جانتا ہے۔تو میرے نفس کی بات کو جانتا ہے اور میں تیرے نفس کی بات نہیں جانتا بے شک تو خیوں کا خوب جانے والا ہے۔میں نے انہیں وہی بات کسی تھی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔اس بیان سے حضرت مسیح علیہ السلام کی بظاہر پوری براء ت نظر آتی ہے۔مگر ایک پہلو ابھی باقی تھا۔یعنی اگر یہ سوال ہو کہ اچھا تم نے تو یہ تعلیم نہ دی۔مگر یہ بتاؤ کہ تمہاری موجودگی میں اگر یہ عقیدہ پیدا ہوا تو کیا تم نے انہیں ایسا عقیدہ اختیار کرنے سے منع بھی کیا تھا یا نہیں؟ اگر منع نہیں کیا تھا تو تب بھی تم مورد الزام ہو۔اس متوقع سوال کے جواب میں حضرت مسیح علیہ السلام اوپر کے جواب کے بعد کہیں گے۔وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا قَادُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ انْتَ الرَّقِيبٌ عَلَيْهِمْ " (المائده : ۱۱۸ ) یعنی جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا۔میں ان لوگوں کا نگران