نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 37 of 40

نزولِ مسیح — Page 37

۳۷ ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(النور : ۵۶) وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا - یعنی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لا کر اعمال صالحہ بجالا ئیں گے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا۔جس طرح اس نے ان لوگوں کو خلیفہ بنایا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ضرور ان کا وہ دین ان کے لئے مضبوط کرے گا جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے اور ضرور ان کو خوف کے بعد امن سے بدل دے گا۔" یہ آیت اس بات پر نص صریح ہے کہ امت محمدیہ میں موعودہ خلافت کا وعدہ آنحضرت می و تحلیل مل کے امتیوں کو دیا گیا ہے اور امت محمدیہ کے خلفاء کو پہلے گذرے ہوئے خلفاء سے كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ کہہ کر لفظ كَمَا کے ذریعہ تشبیہ دی گئی ہے۔پس اس امت کے خلفاء مشبہ ہیں اور پہلی امتوں کے خلفاء مشبہ به چونکه شبہ اور مشبہ بہ میں از روئے علم بیان مغائرت کا ہونا ضروری ہے اس لئے امت محمدیہ کے خلفاء پہلے گزرے ہوئے خلفاء کے غیر ہونگے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی پہلا خلیفہ آکر امت محمدیہ میں آنحضرت لی لی اور اللہ کا خلیفہ بن جائے۔کیونکہ اس سے مشبہ اور مشبہ بہ کا عین ہو جانا لازم آتا ہے جو محال ہے اور جس امر سے ایک محال امر لازم آئے وہ امر باطل ہوتا ہے چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے اماناً آنحضرت اللہ کا خلیفہ بننا محال ہے۔لہذا ان کا دوبارہ آکر آنحضرت میر کا خلیفہ بننا مستلزم محال ہونے کی وجہ سے باطل ہے اور ثابت ہو گیا کہ حدیث نبوی کی یہی تعبیر درست ہے کہ اس حدیث کے موعود عیسی بن مریم سے مراد در حقیقت امت محمدیہ کا ایک فرد