نزولِ مسیح — Page 34
(بخاری کتاب الاحياء باب وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِبْرَا نَتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيَا " یعنی کوئی مولود پیدا نہیں ہو گا مگر شیطان اسے ولادت کے وقت چھوٹے گا۔پس وہ شیطان کے اسے چھونے پر پھیچے چلائے گا بجز مریم اور ابن مریم کے۔اس حدیث نبوی میں بتایا گیا ہے کہ جب بلوغت پر انسان کی معنوی ولادت ہوتی ہے اور اس طرح کوئی انسان ایک صحیح مذہب میں جنم لیتا ہے تو اس معنوی ولادت پر شیطان اس کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔اور اسے گمراہ کرنا چاہتا ہے۔اس موقعہ پر یہ روحانی مولود دعاؤں میں لگ جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتا ہے کہ وہ اسے شیطان کے حملے سے محفوظ رکھے۔مگر جو شخص ولادت معنوی کے موقع پر مربی مقام یا ابن مریم کا مقام رکھے وہ مس شیطان سے پاک ہو گا۔اس حدیث میں " مریم " اور " ابن مریم " کا لفظ ایسے بزرگان امت کے لئے بطور مجاز و استعارہ استعمال ہوا ہے جو مقام ولایت یا مقام نبوت تک پہنچے ہوں۔ایسے لوگ مس شیطان سے بالکل پاک رہتے ہیں۔اس قسم کے لوگوں کا ذکر سورۃ تحریم میں بھی کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے:۔وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِلَّذِيْنَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَ نَجْنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ، وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ تُوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَتِ رَتِهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ (التحریم: ۱۳۱۲) اللہ تعالی نے مومنوں کی مثال فرعون کی عورت سے بیان کی ہے۔جب اس نے کہا۔اے میرے رب! تو میرا گھر اپنے پاس جنت میں بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے