نزولِ مسیح — Page 29
۲۹ بے شک وہ کہہ سکتے ہیں کہ روح قبض کرنا اس کے مجازی معنے ہیں۔مگر کسی لفظ کے استعمال میں زبان کے اصولوں کو ملحوظ رکھنا تو ضروری امر ہے۔مودودی صاحب نے توفی کے مجازی معنی قبض روح کرنا تسلیم کرلئے ہیں۔پر اور علم بیان میں یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ جس مجاز کے متعلق علم بیان کا قاعدہ محل پر کوئی لفظ مجازی معنوں میں استعمال ہوا ہو۔اس محل میں وہ لفظ حقیقی اور اصلی لغوی معنوں میں استعمال شدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ایسے محل پر اس کے اصلی لغوی معنی لینے محال ہوتے ہیں۔مثلاً قرآن شریف میں آیا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى (بنی اسرائیل : ۷۳ ) کہ جو شخص اس دنیا میں اندھا ہو گا وہ آخرت میں بھی اندھا ہو گا۔اندھے کے لغوی معنی ہیں جو آنکھوں سے اندھا ہو۔مگر اس کے مجازی معنی بصیرت روحانیہ سے عاری کے ہیں۔لہذا اس جگہ ظاہری نابینائی کے معنی سراسر غلط اور نا معقول ہوں گے۔کیونکہ محل استعمال مجازی معنوں کا ہے۔توفی کے مجازی معنی قبض روح کے ہیں اور ان معنوں کا محل استعمال یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالی تو فی کرنے والا ہو اور انسان کی توفی کی جائے۔اس موقعہ پر اس لفظ کے معنی قبض روح ہی ہوتے ہیں۔گو یہ مجازی معنی قرار دیئے جائیں۔مجازی معنی کے محل پر یہ لفظ اپنے اصلی لغوی معنی " پورا لے لینا اور وصول کر لینا" میں استعمال نہیں ہوتا پس چونکہ آیت يَا عِیسَی انّي مُتَوَفِيْكَ میں اور آیت فَلَمَّا تَوَفِّيتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّيْبَ عَلَيْهِمْ میں دونوں جگہ خدا تعالیٰ فاعل ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام جو انسان ہیں تو فی کا مفعول یہ ہیں لہذا دونوں آچوں میں توفی کے معنی وفات دیتا ہی ضروری ہو نگے۔اس محل پر کوئی دوسرے معنی کرنا علم بیان کے اصول کا خون کرنے کے مترادف ہے۔