نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 22 of 40

نزولِ مسیح — Page 22

میں اپنی وفات کو ہی الزام سے برأت کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔حضرت بانی سلسلہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا توفی کے متعلق انعامی چیلنج احمدیہ کی تحقیقات قرآن مجید احادیث نبویہ اور اہل عرب کے قدیم و جدید کلام کے استقراء کی بناء پر یہ ہے کہ توفی اور اس کے مشتقات کا جب اللہ تعالیٰ فاعل ہو اور کسی ذی روح کے لئے یہ استعمال ہوں تو اس جگہ معنی ہمیشہ قبض روح کے ہوتے ہیں۔عربی زبان میں تو فی کا ایسی صورت میں استعمال کبھی بھی قبض الروح مع الجسم کے معنوں میں نہیں ہوا۔قرآن و حدیث اور اقوال عرب سے ایسی صورت میں استعمال کی کوئی مثال جس میں تو فى قبض الروح مع الجسم کے معنوں میں استعمال ہوا ہو پیش کرنے والے کو آپ نے ایک ہزار روپیہ لے علم کے لئے استعمال دکھانے کی صورت میں مزید دو صد روپیہ انعام دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔۲ مگر آج تک کوئی عالم ایسی مثال پیش نہیں کر سکا۔پس جب لغت عربی میں اس شرط کے ساتھ تو فی کا لفظ ہمیشہ قبض روح کے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے تو حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق قرآن مجید میں مُتَوَفِیک اور فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِی کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں تو فی سے مراد وفات دینا ہی ہے۔کیونکہ محاورہ زبان عربی میں توفی کا قبض الروح مع الجسم کے معنوں میں استعمال خدا کے فاعل اور ذی روح کے مفعول ہونے کی صورت میں پایا ہی نہیں جاتا تو حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے اس لفظ کے استعمال میں قبض الروح مع الجسم کے معنی لینے کا محاورہ زبان کے لحاظ سے حق ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس یہ معنی نئی لغت بنانا تو کہلا سکتا ہے۔محاوره زبان عربی ان معنوں کا متحمل نہیں۔مولوی ابوالاعلیٰ مودودی اس چیلنج کے پیش نظر مودودی صاحب کا جواب رقمطراز ہیں:۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه (۲۰۳) گه (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۳) J