نزولِ مسیح — Page 1
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ نزول مسیح احباب کرام! میری تقریر کا موضوع نزول مسیح " ہے۔یہ مضمون تحریک احمدیت کے نقطۂ نگاہ سے اہم ترین مضمون ہے اور سلسلہ احمدیہ کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ تحریک احمدیت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کے اس دعوئی پر مبنی ہے کہ آپ امت محمدیہ کے مسیح موعود ہیں اور اس دعوئی کی مئوید وہ پیشگوئی ہے جو احادیث نبویہ میں نزول المسیح کے متعلق صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے۔جس میں آنحضرت ملی یا یو ایم کے ایک امتی ابن مریم کو امت کا امام قرار دیا گیا ہے گو اجتہادی غلطی سے کئی علمائے سابقین اس پیشگوئی کو حضرت عیسی علیہ السلام کے اصالتا دوبارہ نزول سے متعلق سمجھتے ہوئے یہ لکھتے چلے آئے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے خاکی جسم کے ساتھ کھانے پینے اور دیگر حوائج بشری کے بغیر غیر متغیر حالت میں آسمان پر زندہ موجود ہیں اور وہی آخری زمانہ میں آسمان سے اتریں گے۔حضرت مرزا غلام احمد بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی تحقیق اس بارہ میں یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام از روئے آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ تمام دوسرے انبیاء کرام علیهم السلام کی طرح وفات پا چکے ہیں اور حدیث معراج نبوی سے بھی ظاہر ہے کہ رسول الله صلی اللہ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر ان کی خالہ کے بیٹے بیجنی علیہ