نزولِ مسیح — Page 2
السلام کے ساتھ بیٹھے دیکھا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کا تیجی علیہ السلام کے ساتھ عالم برزخ میں رہنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ وہ بھی وفات پا کر عالم برزخ میں پہنچ چکے ہیں اور احادیث نبویہ میں نزول ابن مریم کی جو پیشگوئی دارد ہے اس میں ابن مریم کے ل اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ) صحیح بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسی ابن مریم اور فَامَّكُم منكُمْ (مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسی ابن مریم) کے الفاظ کہ وہ ابن مریم تم میں سے تمہارا امام ہو گا زبان مبارک نبوی سے اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ یہ ابن مریم امت محمدیہ کا ہی ایک فرد ہے جسے امت محمدیہ کا امت میں سے امام قرار دیا گیا ہے اور اس موعود کو ابن مریم کا نام محض استعارہ کے طور پر دیا گیا ہے جس سے یہ مراد ہے کہ یہ موعود حضرت امسیح عیسی ابن مریم علیہ السلام کے رنگ میں آئے گا اور یہ حضرت عیسی علیہ السلام کا مثیل اور بروز ہو گا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔أَفَمَنْ كَانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهِ كِتَابٌ مُوسَى إِمَامًا وَّ رَحْمَةٌ (هود :۱۸) ترجمہ :۔کیا جو شخص اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہے (یعنی آنحضرت ی اور اس کے پیچھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان گواہ آتا ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب امام اور رحمت ہے (کیا وہ شخص جھوٹا ہو سکتا ہے) اس آیت میں زمانہ حال ماضی اور مستقبل کو علی الترتیب آنحضرت مین کے دعوی کی صداقت پر گواہ ٹھرایا گیا ہے زمانہ حال کی شہادت میں خود قرآن مجید کو بطور بینہ اور دلیل کے پیش کیا گیا ہے اور زمانہ مستقبل میں آپ کی سچائی کے ثبوت کے لئے خدا تعالی کی طرف سے آپ کے بعد ایک عظیم الشان گواہ کے بھیجا جانے کی خبر دی گئی ہے اور زمانہ ماضی کی شہادت کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب تو رات کو پیش کیا گیا ہے جس میں آنحضرت ملی کے بارے میں صریح پیشگوئیاں موجود ہیں۔جو