نزولِ مسیح — Page 27
۲۷ قدرت نمائی اور معجزہ تو کہلا سکتا ہے مگر تدبیر نہیں کہلا سکتا۔اعجاز اور تدبیر آپس میں نمایاں فرق رکھتے ہیں۔جس بات میں مخالف کسی حیلہ کے ذریعہ مقابلہ نہ کر سکتے ہوں وہ معجزہ ہے اور جس امر میں کسی حیلہ کے ذریعہ سے مقابلہ کر سکتے ہوں وہ حیلہ تدبیر ہوتی ہے۔پس خدا تعالیٰ کی تدبیر تو کوئی ایسا امر ہی ہو سکتی ہے جس کا مقابلہ یہودی بھی تدبیر سے کر سکتے ہوں اور پھر خدا تعالیٰ کے خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ہونے کی وجہ سے وہ خدا کی تدبیر کے مقابلہ میں ناکام رہیں اور زندہ شخص کو آسمان پر اٹھا لینا معجزہ نمائی تو کھلا سکتا ہے مگر تدبیر نہیں کہلا سکتا۔لہذا صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے صلیبی موت سے زندہ آسمان پر اٹھا لینے سے نہیں بچایا بلکہ کسی مخفی تدبیر سے بچایا ہے۔ہمارے سید و مولی فخر الانبیاء حضرت محمد مصطفی ملی و الم کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ کے مخالف آپ کے قتل کرنے یا قید کرنے یا جلاوطنی کی تدبیریں کر رہے ہیں ويمكرون ويمكر الله والله خَيْرُ الْمَاكِرِينَ وہ بھی تدبیر کر رہے تھے اور خدا تعالیٰ بھی ان کے بالمقابل تدبیر کر رہا تھا اور اللہ تدبیر کرنے والوں میں سے بہتر ہے۔لہذا خدا تعالی تو کامیاب ہوا اور آنحضرت مل کے دشمن آپ کے قتل کی تدبیر سمجھوتہ کرلینے کے بعد سراسر نا کام رہے اور وہ آنحضرت میم کا بال بیکا بھی نہ پر کر سکے کیونکہ خدا تعالیٰ اپنی تدبیر کے ذریعے آنحضرت ملی ایم کو دشمنوں کے درمیان سے نکال کر لے گیا۔اور پھر ہجرت کے بعد آپ کو ایسی کامیاب زندگی عطا فرمائی جس کی کامل مثال کسی نبی میں موجود نہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق بھی اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔جَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَ أُمَّةٌ آيَةٌ وَأَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ ومَعِينٍ (المومنون (۵۱) کہ ہم نے ابن مریم اور اس کی والدہ کو نشان بنایا اور ان دونوں کو ایک بلند زمین کی طرف پناہ دی۔جو آرام والی اور چشموں والی ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پہاڑی علاقہ کی طرف یہ ہجرت بھی اس تدبیر کا ہی حصہ