نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 39 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 39

پروں والے۔خدا بھی پروں والا اور پھر معلوم نہیں کہ ان کے کتنے کتنے کروڑ پر ہوں گے۔اعتقاد کیا ہوا ہے۔انصاف!انصاف!!انصاف!!!النکار کو ہم جانتے ہیں۔معجزہ قرآنیہ اور ملائکہ کا دست تصرف اسلام کی نصرت کے لئے۔اس پیدائش کے مضمون میں ستیارتھ کے صفحہ ۲۷۷میں خدا کی صفت میں لکھا ہے۔’’ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا۔بھان متی نے کنبہ جوڑا ‘‘ اور یہی اعتراض سوال نمبر۲۵میں تم نے قرآن کریم پر کیا، دیکھا خدا کا دست تصرف! کس طرح ستیارتھ میں لکھوایا کہ تیرے اعتراض کے وقت تیرا منہ سیاہ کر دے۔ذرہ دونوں کتابیں کھول کر ترک اسلام صفحہ ۵۷ اور ستیارتھ صفحہ نمبر۲۷۷ دیکھو۔ستیارتھ میں ایک سوال لکھاہے۔تیتری اُپ نشد کا قول ہے۔اس پر میشور اور پرکرتی سے اکاش خلاصہ یعنی جو جوہر بشکل علت سب جگہ پھیل رہا تھا اس کو اکٹھا کرنے سے اوکاش (خلا)پیدا ہوتا ہے۔درحقیقت اکاش کی پیدائش نہیں ہوتی کیونکہ بغیر اکاش کے پرکرتی اور پرمانوں کہاں ٹھہر سکیں۔اکاش کے بعد وایو۔وایو کے بعداگنی۔اگنی کے بعد جل۔جل کے بعد پرتھوی۔پرتھوی سے نباتات۔نباتات سے اناج۔اناج سے نطفہ۔نطفہ سے انسان یعنی جسم پیدا ہوتا ہے۔یہاں اکاش وغیرہ کی ترتیب سے اورچہاندوگیہ میں اگنی وغیرہ اتیرے میں جل وغیرہ کی ترتیب سے دنیا کی پیدائش بتائی ہے۔ویدوں میں کہیں پُرش(پتی)کہیں ہرنیہ گربھ(پرمیشور)وغیرہ سے۔ہیمانسا میں کرم (فعل) دشیشک میں کال (زمان) نیائے میں پرمانو (ذرات) یوگ میںپُرشارتھ (جیو کے لئے) سانگہہ میں پرکرتی (مادہ) اور ویدانت میں برہم (پرمیشور) سے دنیا کی پیدائش مانی ہے اب کس کو سچا اور کس کو جھوٹا مانیں؟دیانند نے ۲۹۰میں جواب دیا ہے۔اس میں سب سچے کوئی جھوٹا نہیں۔جھوٹا وہ ہے جو الٹا سمجھتا ہے۔احکم الحاکمین ۲۔ہمہ عالم ۳۔ہوا ۴۔آگ ۵۔پانی