نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 322
(القلم:۳تا۷) اس کاخلاصہ یہ ہے کہ اپنے رب کے فضل سے تو مجنون نہیں کیونکہ تو اعلیٰ اخلاق پر ہے ا ور مجنون کے اخلاق و فضائل اعلیٰ کیا ادنیٰ درجہ پر بھی نہیں ہوتے۔اور پھر مجنون تمام دن اور رات میں کوئی کام کرے اس کے کاموں پر کچھ نتائج وثمرات صحیحہ وا قعیہ مرتب نہیں ہوا کرتے اور جو تونے کام کیے ہیں ان کے نتائج تو بھی دیکھ لے گا اور تیرے مخالف بھی دیکھ لیں گے کہ مجنون کون ہے۔اب غور کرو کہ جابجا قرآن کریم میں دعویٰ کیا گیا کہ ہم( اللہ تعالیٰ)رسولوںاو ران کے ساتھ والوں کی نصرت و تائید کرتے ہیں اور یہ گروہ ہمیشہ مظفر ومنصور ہوتا ہے۔غور کرو ! جب رسول آئے وہ ہمیشہ منصور اور ان کے مخالف ذلیل اور خوار ہوئے۔جیسے فرمایا۔(المومن:۵۲) بے ریب ہم(اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ) نصرت دیتے ہیں اپنے مرسلوں کو اوران کو جو ایما ن لائے (مانا ان رسولوں کو) اسی ورلی زندگی میں اور فرمایا : (المنافقون :۹) اور اللہ کے لئے عزت ہے اور اس کے رسول کے لئے اور مومنوں کے لئے اور فرمایا۔(البقرۃ :۶) وہی ہدایت پر ہیں اور وہی مظفر و منصور اور بامراد ہیں۔دیکھ !فرمایا سر مو تفاوت اس میں نہ ہوا۔نبی کریم اور آپ کے جان نثار صحابہ کر ام تمام مخالفوں کے سامنے مظفر منصوربامراد رہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات نہ ہوتی تو اس کے خلاف ہوتا او ر یہ بات مجنون کی بڑ بن جاتی۔مخالفوں کے حق میں فرمایا: (المجادلۃ :۲۰) یہ مخالف شیطانی گروہ ہے۔خبردار رہو ! بے ریب شیطانی گروہ ناکا م رہے گا۔