نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 294 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 294

رکھنے کے ہو جاوے گی۔پنجم۔اپنے کھیت میں دوسرے کا بیج پڑنے نہ دے اس لئے کہ اس سے فساد ہو گا اورعورتوں کے حقوق کے متعلق سنو! کیا تمہارے قانون میںعورت و مرد کے حقوق مساوی ہیں۔دیکھو منو ادھیائے ۵ شلوک ۱۴۷۔۱۴۸صفحہ ۱۸۵۔۱۴۷عورت نا بالغ ہو یا جوان یا بڈھی ہو گھر میں کوئی کام خود مختاری سے نہ کرے۔(دیکھو اپنے گھر کی مساوات کو)۱۴۸۔عورت لڑکپن میں اپنے باپ کے اختیار میں رہے اور جوانی میں اپنے شوہر کے اختیار میں اور بعد وفات شوہر کے اپنے بیٹوں کے اختیار میں رہے خود مختار ہو کر کبھی نہ رہے۔منو ادھیائے ۹شلوک ۳صفحہ۳۲۷۔لڑکپن میںباپ اور جوانی میں شوہر اور بڑھاپے میں بیٹا عورتوںکی حفاظت کرے کیونکہ عورتین خود مختار ہونے کے لائق نہیں ہیں۔منو۹ادھیائے شلوک ۱۵،۱۸ صفحہ۳۲۹۔عورت تدبیر نیک سے محفوظ بھی ہو تاہم اپنی بداطواری و تلون طبعی و بیوفائی و عادات بد ان باتوں سے شوہر کو رنجیدہ کرتی ہے۔اور قدرت نے کیا مرد و عورت میں مساوات رکھی ہے۔بچہ کے پیٹ میں رکھنے ،جننے ،پرورش کرنے میں کیا عورت مرد مساوی ہیں ؟ ہرگز نہیں۔سوال نمبر۹۹۔اگر کوئی عورت بدکاری کرے تو اس کو پیٹو اور گھر میں قید رکھو کہ مر جاوے۔بدکار مرد کو عورت جوتے کیوں نہ لگائے ؟عورت غلاموںکی طرح ملکیت تصور کی گئی ہے۔الجواب:۔(النساء۔۱۶،۱۷) اس کا مطلب تو صاف تھا کہ شریر عورت کو بے وجہ سزا نہ دی جاوے بلکہ اس کی شرارت پر چار گواہ گواہی دیں کہ یہ عورت شریر ہے تو اس کو قید کر دو جب تک خدا تعالیٰ کوئی راہ نہ نکالے اور اگر