نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 291
لکھا ہے اس پر وہ صاحب کھسیانے ہوکر بولے کہ نہیں۔میں نے کہا کہ جب اس قدر اپنے مذہب پر حملوں سے ناواقف ہیں تو آپ شرم کریں انسان پیدائش میں تعلیم یافتہ نہیں ہواکرتا۔قرآن میں ہے (النحل:۷۹( اور سچ بھی ہے کیونکہ ابتداء انسان اس طرح ہوئی ہے عناصر کی ترکیب سے نباتات ہوئے۔نباتات اور عناصر کی ترکیب سے حیوانات اور دونوں قسم نباتات وحیوانات کے استعمال اور عناصر سے انسانی خون ہوا اس سے نطفہ بنااور اس سے انسان بنتاہے۔دیکھو کس طرح تدریجی ترقی پر انسان آتاہے۔کہاں کا پز جنم۔آخر آدمی پیدا ہوتاہے کھانا ،پینا، پہننا، سونا ،جاگنا، ہنسنا، رونا، محبت اور غضب یہی اس کے ابتدائی کام ہوتے ہیں۔جب بڑھا عام حیوانات سے ترقی کرنے لگا کھانے میں پینے میں وپہننے میں، سونے، جاگنے، ہنسنے، رونے، محبت اور غضب میں اس نے اصلاح شروع کی اور ان کو اعتدال پر لانے لگا۔بدیوں پر اور ان کے ارتکاب پر اندر ہی اندر بلکہ عملاً بھی اپنے آپ کو ملامت کرتاہے اور اگر ایسے لوگ اس کے ارد گرد ہوں جنہوں نے اپنے اس مرتبہ میں اپنے فطرت ووجدان، نورمعرفت اور نورایمان کو قتل کر دیا ہے تو ان کی حالت مستثنیٰ ہے۔کھانے میں اصلاح یہ ہے کہ سڑا گلاکتے کی طرح بلکہ مردار خوار دنی الطبع لوگوں کی طرح خون وسؤر نہیں کھاتا۔پینے میں اصلاح یہ ہے کہ بدمزہ،زہر دار،مضر ،مسکر،اور مفتر کو استعمال نہیں کرتا۔غرض کُلُوا وَ اشرَبُوامیں وَ لَا تُسرِفُوا کا کار بند بن جاتا ہے اور اپنی عام چال میں واقصد فِی مَشیِک کا عامل بن جاتا ہے۔لباس پہننے میں ننگا رہنا خلاف انسانیت یقین کرتا ہے۔شہوانی قویٰ کے لیے تخصیص سے کام لیتا ہے۔پھر اس طرح ترقی کرتا ہواعلوم جسمانیہ وروحانیہ میں اپنی اور اپنے بنی نوع کی بہتری چاہتا ہے اور الٰہی رضامندی اور اس کی محبت کے لیے تڑپتا ہے مگر بعض لوگ زہد خشک اور من مانی راہیں نکالتے یا اختراعی راہوں پر چلتے ہیں جیسے اکثر زاہد خشک اور نیشنیلٹیوں کے گرویدہ اور اکثر ممبرانِ انجمن اور سعید الفطرت اسلامی راہ یعنی خدا کی بتائی ہوئی راہ کو اختیار کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہر ایک طبعی حالت کو اخلاقی رنگ میں الٰہی احکام کے ذریعہ لانا اصل شائستگی اور حقیقی مذہب ہے۔