نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 292 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 292

صرف طبعی حالت پر رہنا کوئی عمدہ صفت نہیں۔مثلاََ نرم دِلی ،دل کی غریبی اور جھگڑے کو پسند نہ کرنا اور مقابلہ سے گریز ایسی صفات ہیں کہ بہت حیوانات ان سے موصوف ہیں۔کتوں کی صلح کاری باہمہ دھتکار عیاں ہے حاجت بیان نہیں۔جوؤںتک نہ مارنا بلکہ ہوم کو ترک کر دینا کہ اس میں شہد ڈالنا پڑتا ہے اور اس میں مکھیوں کی خانہ بربادی ہے۔ہوم میں مشک ڈالنا پڑتا ہے اس کی گرانی کے باعث شکاری لوگ ہرنوں کا استیصال کر دیں گے۔موتیوں اور ریشم کو استعمال میں نہ لانا اس خوف سے کہ ہزاروں سیپ کے کیڑے اور ریشم کے کیڑے تباہ ہوں گے بلکہ گھی بھی ترک کر دینا اس خیال سے کہ اس میں بچھڑوں کی حق تلفی ہے یہ سب باتیں خوبی کی باتیں نہیں ان کے خلاف اسلام کیا ہے؟ وہ ہے تمام ترقیات میں اللہ تعالیٰ کا فرما ں بردار ہونا۔قرآن مجید میں لکھا ہے۔(البقرۃ:۱۱۳ ) (الانعام:۱۶۳،۱۶۴) پس اسلام یہ چیز ہے جس کو تم نے ترک کیا۔اس مضمون کو تفصیل کے ساتھ ہم دیباچہ میں لکھیںگے انشاء اللہ تعالیٰ۔باقی حصہ اعتراضات کا جواب دیکھو سوال نمبر۱۳اور سوال ۱۴اور آخر دیباچہ میں۔سوال نمبر۹۸۔عورتیں تمہاری کھیتی ہیں آدمیوں کے برابر ان کے حقوق نہیں۔الجواب: ان تراکیب سے آپ کو عمدہ اور اعلیٰ قوم کی بی بی نہیں مل سکتی۔افسوس تجھ پر اور تیرے اعوان اور انصار پر ! دیکھ تیرے دیانند نے کیا کہا ہے اور کس طرح عورت کو کھیت سے تشبیہ دی ہے! نابکار ! یہ قرآنی معجزہ ہے کہ جس کا تم نے انکار کیا۔وہی بات تمہارے گھر میں ہم دکھاویں اگرچہ ہماری باتیں اس سے اعلیٰ ہوتی ہیں۔دیانند کا قول ہے ’’ جو کوئی اس بیش قیمت چیز کو بیگانی