نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 262 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 262

دیوتا۔ملک اور فرشتے موجود ہیں اور ان کا ماننا ضروری ہے کیونکہ الٰہی کلام میں ان کا ذکر ہے اور شیاطین اور جنّ بھی ہوتے ہیں اور ان کی مخالفت کرنا ضروری ہے میں بھی الہامی مذہب اسلام کا معتقد ہوں اور اس کی پاک کتاب میں پاتاہوں۔(البقرۃ:۲۸۶)رسول ایمان لایااس پر جو اتارا گیا اس کی طرف اس کے رب سے اور مومن بھی سب کے سب ایمان لائے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر۔اس لئے میں فلاسفروں۔سائنس دانوں۔برہموؤں اور آریہ سماجیوں کے لئے ایک دلیل وجود ملائکہ پراور ان پرایمان لانے کی ضرورت کی وجہ بیان کرتاہوں شائد کوئی رشید اور سعادت مند اس پر توجہ کرے۔سب سے پہلے میرے نزدیک ہزاروں ہزار انبیاء ورسول جو راست بازی میںضرب المثل تھے اور ان کے مخلص اتباع کا اعتقاد اس بارے میں کہ ملائکہ اور شیاطین ہیں بہت بڑی دلیل ہے مگر ایک دلیل مجھے بہت پسند آئی ہے جسے میں پیش کرتاہوں اور دلیری سے پیش کرتا ہوںکیونکہ وہ میرے باربار کے تجارب میں آچکی ہے اور وہ یہ ہے تما م عقلاء میں یہ امر مسلّم ہے کہ اس زمین کاکوئی واقعہ بدوں کسی سبب کے ظہور پذیر نہیں ہوتا بلکہ صوفیاء کرام اور حکمائے عظام اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی امر حقیقت میں اتفاقی نہیں ہواکرتا تمام امور علل اور حکم سے وابستہ ہوتے ہیں اب میں پوچھتا ہوں کہ تنہائی میں بیٹھے بیٹھے نیکی کاخیال بدوں کسی تحریک کے کیوں اٹھتا ہے بلکہ بعض وقت ایسا ہوتاہے کہ ارد گرد بدکاربدیوں کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ بدی کے عین ارتکاب و ابتلاء میں ان کو نیکی کی تحریک اور رغبت پیداہوجاتی ہے۔کوئی بتائے کہ اس تحریک نیک اور رغبت پسندیدہ کا وقوع کیوں ہوا؟آیا بلاسبب اور اتفاقی طور پر؟یہ توباطل ہے کیونکہ تجارب نے اس کو باطل ٹھہرایاہے۔پس لامحالہ نیکی کا محرک ضرور ہے اسی نیکی کے محرک کو