نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 201
سوالات کا ایک ہی جواب بڑی قوت اور تحدی سے دیاجاوے کہ جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء علیھم السلام کے اور ہمارے نبی ﷺ کے قرآن میں مذکور ہیں ان سب کے صدق اور حقیّت کے ثابت کرنے کے لئے آج اس زمانہ میں ایک شخص موجود ہے جس کا یہ دعویٰ ہے کہ اسے وہ تمام طاقتیں کامل طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عطاہوئی ہیں جو انبیاء علیھم السلام کو ملی تھیں۔جو عجائبات خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور موسیٰ علیھما السلام کے ہاتھ پرمنکروں کو دکھائے وہی عجائبات زندہ اور قادر خدا آج اس کے ہاتھوں پر دکھانے کوموجود اور تیار ہے۔کوئی ہے جو آزمائش کے لئے قدم اٹھائے۔غلام کے ہاتھ سے آقا کی صداقت کو دیکھے۔سوال نمبر ۴۹۔موسیٰ نے لاٹھی مار کر سمندر کو پھاڑ دیا اور فرعون معہ لشکر کے غرق ہوا اور موسیٰ کی قوم بچ گئی۔الجواب۔دیکھو جواب نمبر ۴۸نیز پھر منو کے ۱۲۔۵۰ اورستیارتھ ۴۴۳میں جو لکھا ہے وہ جھوٹ ہے۔جو اعلیٰ درجہ کے ستوگنی ہو کرعمدہ ترین کام کرتے ہیں وہ برہما یعنی ست ویدوں کے جاننے وشو سرج یعنی علم قانون قدرت کو جان کر قسم قسم کے دبان غبارہ وغیرہ سواریاں بنانے والے دہارمک اور سب سے اعلیٰ عقل والے ہوتے ہیں اور آویکت یعنی لطیف ترین مادہ کو شکل میں لانے اور پرکرتی (یعنی علّت مادی)پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔اگر تم یوگا ابھیاس۔اسپریچولیزم وغیرہ اور اشٹ سدھیان اور اہل کمال کے علوم مصدقہ آیات ومعجزات کوجانتے تو ایسے بے ہودہ اعتراض نہ کرتے۔ایسے اعتراض کرنا اہل مذاہب اور ارباب نقل کاکام نہیں۔بہرحال اگر تم وہ راہ راست نہیں جانتے تو آپ کو ایک راہ دکھاتے ہیں اصل آیت یہ ہے۔(البقرۃ:۵۱)اور جب الگ کر دیا ہم نے تمہارے لئے دریا کو پھر بچالیا تمہیں اور غرق کر دیا ہم نے