نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 202
فرعونیوں کو اور تم دیکھتے رہے۔اور سورہ طٰہٰ میں ہے۔(طٰہٰ :۷۸)یہ کہ رات کو لے چل میرے بندوں کو پھر چل ان کے لئے ایک خشک راہ جو دریا میں ہے۔مت ڈر یو کسی کے احاطہ سے اور نہ کسی قسم کا خوف کرنا۔(الشعراء :۶۴)چل اپنی فرمانبردار جماعت کے ساتھ اس بحر میں پس وہ کھلاتھااور ہر ایک ٹکڑا تھا جیسے بڑے ریتے کا ٹیلا۔اضرب بعصاک کے بدلہ سورہ طٰہٰ میں اسر بعبادی اور فاضرب لھم طریقا۔پس معنی ہوئے لے جا جماعت فرمانبردار کو یاجاساتھ جماعت اسلام کے بحر میں جو خشک پڑا ہے پھر بچایا تم کو اور غرق کر دیا فرعونیوں کو تمہارے دیکھتے۔سوال نمبر ۵۰۔موسیٰ نے ڈنڈا مارا بارہ چشمے نکال دئیے۔الجواب۔دیکھو جواب نمبر ۴۸،۴۹۔اچھے لوگ مادہ اور پرکرتی پر قابو رکھتے ہیں دیکھو منو ۱۲۔۵۰اور ستیارتھ صفحہ ۴۴۳۔پھر اشٹ سدھی اور اسپریچولیزم۔مسمریزم وغیرہ فنون کے عجائبات سے تو تم آگاہ نہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں معجزات کے منوانے کے لئے دنیا میں بہت سامان رکھے ہیں ان کے لئے یوگا ابہاس والوں سے پوچھو اگر شک رہے تو پھر دیکھو ہمارا صفحہ نمبر۷۰،۱۵۲،۱۵۳،۱۵۴ معجزات پر۔اگر تم ایسی ہی محرومی میں ہوتو تم کو ایک آسان راہ بتاتے ہیں سنو !لکھا ہے جب کہ موسیٰ علیہ السلام نے پانی طلب کیا اس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا۔(البقرۃ:۶۱)