نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 99
ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب پورا ہو گا اگر تم سچے ہو توکہہ میںتوا پنی جان کے لئے نفع اور ضرر کا مالک نہیں مگر جو کچھ چاہے اللہ۔ہر ایک گروہ کے لئے وقت اور میعاد مقررہے جب ان کا وقت آجاتا ہے اسے ایک گھڑی پیچھے نہیں کر سکتے اور نہ اس گھڑی کو آپ آگے لا سکتے ہیں۔سوال نمبر۱۰۔گمراہ کنندہ تو خود خدا ہے۔پھر نبیوں کو ہدایت کے لئے اور کتابوں کو نازل کرنا لغو ہے اور شیطان کو خواہ مخواہ بدنام کرناہے۔ثبوت کے لئے دیکھو یہ آیت(الکھف:۱۸) الجواب۔اضلال جس سے یضلل نکلا ہے نتیجہ ہے ضلال کا اور ضلال پیدا ہوتاہے ان انسانی طاقتوںسے جوانسان کے تابع ہیں۔قرآن کریم نے اس مضمون کو خوب صاف کیا ہے جہاں فرمایا ہے۔۱۔(البقرۃ :۲۷) یعنی اس سے وہ انہیں لوگوں پر ضلال اور گمراہی کا حکم لگاتا ہے جو اس کے حدود اور احکام کو توڑتے ہیں۔۲۔(ابراہیم :۲۸) اللہ ظالموں پر گمراہی کا حکم لگاتا اور انہیں گمراہ ٹھہراتاہے۔۳۔(المومن :۳۵) اللہ گمراہ ٹھہراتاہے ایسے شخص کو جو حد سے نکلنے والا مترددہوتاہے۔ان آیات سے یہ بات کس قدر صاف ہوجاتی ہے اور خداترس دانش مند کے نزدیک حرف رکھنے کی جگہ نہیں رہتی۔جولوگ بدکار اور ظالم اور مسرف اور کذاب ہوتے ہیں وہ اپنے اعمال سے کیا ہر ایک سلیم الفطرت کے نزدیک اس بات کے مستحق نہیں ہوتے کہ وہ انہیں دیکھتے ہی حکم لگا دے کہ یہ تو ہلاک اور تباہ ہونے والے لوگ ہیں۔کون ہے جو چوروں اور بدکاروں کو دیکھ کر