نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 98
اسی سے دلی دشمنی اور ترک حق کا ثبوت دیا۔دانش مند آخر اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ تمہارا ترک اسلام کس حق بینی اور حق جوئی پر مبنی ہے۔سنو ! شیطان کا لفظ نکلا ہے شطن سے یا شیط سے۔پہلے لفظ کے معنی ہیں ایسا شخص جو جناب الٰہی سے دور ہے اور دوسرے لفظ کے لحاظ سے شیطان سے مراد ہے بدکاریوں میںہلاک ہونے والی چیز۔پس آپ کو اختیار ہے اسے پیارا بناؤ۔بے چارہ بناؤ۔اس پر رحم کر کے اس کے ساتھ اپنا جنم مرن مستحکم کر ویا اس سے الگ ہو جاؤ۔اور اگر تم آیت (یونس :۵۰) کو زیر نظر رکھ کر اعتراض کرتے ہو تو اس کی کیفیت بھی سن لو۔اس آیت کو سوال سے کوئی تعلق نہیں۔یہ تو ایک پیشگوئی ہے اور اس میں جناب الٰہی نے بتایا ہے کہ ہرقوم کے لئے ایک شخص اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا آیا کرتاہے۔جب وہ آتاہے تو لوگ اس کے موافق بھی ہوتے ہیں اور مخالف بھی۔آخر دونوں کے درمیان انصاف کا فیصلہ ہو جاتاہے۔جب یہ پیشگوئی رسول کریم ﷺ مخاطبین کو سناتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ اگر تم اس پیشگوئی کے کرنے میں صادق ہو تو بتاؤ۔یہ وعدہ کب پورا ہو گا۔اس پر خدا تعالیٰ اپنے نبیؐ سے فرماتا ہے کہ یوں جواب دو اور کہو کہ میں خود نفع پہنچانے اور ضرر دینے کا مالک نہیں کہ میں وقت بتا دوں۔ہاں اللہ ہے جو اللہ چاہتاہے (وہی مل رہتاہے)ہر ایک کے لئے ایک وقت مقررہے اس میں کم وبیش نہیں ہواکرتا۔چنانچہ وہ آیات اس طرح ہیں۔ (یونس :۴۸تا۵۰) ہر ایک گروہ کے لئے ایک رسول ہے جب وہ رسول ان کا آتاہے تو ان میں انصاف سے فیصلہ کیا جاتا