نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 86
والے مکار تھے۔صفحہ۵۳۲۔جن لوگوں نے لیکھرام کی کتابوں کو پڑھا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ تارک مرتد نے تنقیہ دماغ صفحہ ۱۰۸ سے یہ نابکار اور لغو نکتہ چینی سیکھی ہے اور گریجوایٹ ہونے پر سخت بدنما داغ لگایا ہے۔سنو ! وہ تمام صحیح صفات الٰہیہ جس کو ستیارتھ کے مصنف نے اپنی کتابوں میں بیان کیاہے قرآن کریم میں موجود ہیں مثلاً ۔سوال نمبر۲۔’’خدا فریب کرتا ہے۔دھوکہ بازی کرتاہے۔‘‘ جواب نمبر۲۔پہلے اعتراض ہی کو دوسرے لفظوں میں تم نے ادا کیا ہے غالباً نمبروں کا ایزاد مطلوب ہو گا یا کوئی اور امر اس کا باعث ہے۔کید کے متعلق مفردات راغب میں ہے الکید ضرب من الاحتیال۔وقد یکون محموداً ومذموماً وکذٰلک الاستدراج والمکر۔لسان العرب میں ہے۔الکید۔المکر وکل شئی تعالجہ فانت کیدہ والاحتیال والاجتھاد وبہ سمیت الحرب کیداً والتدبیر بباطل او بحق۔کید کے معنے مکر ہوئے اور مکر کے لفظ پر ہم سوال اول میں بحث کر چکے ہیں تو اس سوال کاکرنا ہی لغو ہوا۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے : (الطارق :۱۶تا۱۸) تحقیق منکروںنے تدابیر۔حیلہ۔کوشش اور جنگ خطرناک کرناہے اور میں بھی تدابیر۔حیلہ۔کوششیں اور جنگ کروں گا۔پس تو چھوڑ دے منکروںکو۔انہیں چھوڑ دے تھوڑی دیر کے لئے۔اور لسان العرب میںکید کے معنے ارادہ کے بھی ہیں پس معنی ہوئے تحقیق یہ منکر ارادے کریں