نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 85
اور مکرکی دو قسمیں ہیں ایک مکر محمو دہے جس سے نیک اور عمدہ کام کا قصد کرنا مقصود ہے چنانچہ ان ہی معنوں سے خدا تعالیٰ نے اپنی نسبت فرمایا ۔اور دوسری قسم مکر مذموم ہے یعنی برے فعل کا ارادہ کرنا ہے۔یہی معنی ہیں اس آیت کے الخ اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم ؐ نے اقوام عرب کو عبادات الٰہیہ کی طرف بلایا اور بت پرستی اور بدچلنی کے اقسام سے روکا اور باہمی خانہ جنگیوں سے ہٹا کر ان میں وحدت واتحاد کی روح پھونکنی شروع کی۔اس پر مشرک نادان احمقوں نے آپ کے مقاصد کے برخلاف بڑی بڑی تدابیر شروع کردیں اور آپ کو اس پاک ارادہ سے ہٹانا چاہا اور آپ کو اور آپ کے احباء کو دکھ دئیے اور مخفی تدابیر سے اسلامی کارخانہ کو نابود کرنا چاہا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی وطمانیت بخشی کہ تیرے مقاصد ومطالب کو کوئی نہیں روک سکتا اور یہ لوگ ناکام رہیں گے اور ان کی مخفی تدبیریں خود ان پر الٹ پڑیں گی۔ایک اور جگہ قرآن کریم نے اس واقعہ کا بیان فرمایا ہے جہاں نبی کریم ﷺ کا یہ قو ل حکایت کیا ہے۔ (المائدۃ :۶۰)اے مخالفو ! تم اسی سبب سے ہم سے بیزار ہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے۔معلوم ہوتا ہے کہ آریہ لوگ ہم سے جینیوں اور وید کی شراح ساکتوں کا بدلہ لیتے ہیں جنہوں نے انہیں مکار کہا ہے۔دیکھو ستیارتھ صفحہ۵۲۹۔’’مکاروں کے بنائے ہوئے وید ہیں‘‘ وید کے بنانے