نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 84
(الانفال:۳۱) یعنی جب تیرے مقاصد کو ان لوگوں نے جو منکر ہوئے تدابیر سے روکنا چاہا اس طرح پر کہ تجھے قید کر لیں یا تجھے قتل کردیں یا وطن سے تجھے نکال دیں اور وہ تدبیریں کرتے ہیں اور کریں گے اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیر کرتا ہے اور کرے گا اور اللہ تعالیٰ ان مخالفوں کی تدبیروں پر غالب آنے والا اور اس کی تدابیر ہمہ خیر ہوتی ہیں۔اور دوسرے معنی کے لحاظ سے آیت کے معنے یہ ہوئے: جب منکر تجھے بلاؤں میں پھنسانے لگے کہ تجھے قید کر لیں یا تجھے قتل کر دیں یا تجھے نکال دیں اور پھنساتے ہیں اور پھنسائیں گے اور اللہ تعالیٰ بہت ہی بھلا ہے اپنے مقربوں کے بچانے اور دشمنوں کے عذاب دینے میں۔تیسرے معنی کے لحاظ (مخفی تدبیر)سے آیت کے یہ معنے ہوئے۔جب مخفی تدبیر کر رہے تھے تیری نسبت وہ جو منکر ہوئے کہ تجھے قید کر لیں یا تجھے قتل کردیں یا تجھے نکال دیں اور مخفی تدبیر کرتے ہیں اور کریں گے اور اللہ مخفی تدبیر کرتاہے اور اللہ بہت ہی بھلا مخفی مدبّروں میں سے ہے۔مکر کا لفظ بلااضافت عام مفہوم رکھتا ہے۔یہی و جہ ہے کہ جہاں شریروں کے ارادوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہاں مَکْرَ السَّیِّء یعنی مکر بد کر کے ذکر کیا گیاہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ مکر بُرا بھی ہوتاہے اور بھلا بھی۔اس میں قرآن کریم کا خود ارشاد ہے۔(الفاطر :۴۴) اور برے منصوبے کرنے والوں کا وبال خود ان ہی پر پڑتا ہے۔(النمل:۵۲) پس تو دیکھ کہ ان کے منصوبوں کا انجام کیا ہوا؟ ہم نے ان سب کو مع ان کی قوم کے تباہ کر دیا۔