نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 50
کرتے ہیں۔اسی طرح صلوٰۃ ایک خاص دعا ہے جو تمام متبعان نبی کریمﷺ۔نبی کریم ﷺ کے حسن و احسان کا مطالعہ کر کے آپ کے حق میں جناب الٰہی میں کرتے ہیں اور از بس کہ یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ دعا ضائع اور اکارت نہیں جاتی اس لئے ثابت ہوا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے لئے جو تیرہ سوسال سے کروڑ درکروڑ مرد وزن بچے بوڑھے دعائیں لگاتار کرتے رہے اور کرتے ہیں اور اس طرح دنیا کے کسی ہادی کے لئے دعائیں نہیںکی جاتیں۔پس وہ مدارج میں تمام دوسرے ہادیوں سے معزز و ممتاز ہیں اور ہوں گے۔بڑے بدقسمت ہیںوہ جنہوں نے کے امر کی تعمیل چھوڑ دی ہے۔یہاں ہم سورہ ن کا ابتدائی حصہ لکھ کر مضمون کو ختم کرتے مگر مناسب معلوم ہوا کہ اس کا ابتدائی حصہ فقرہ ہشتم میں مرقوم ہو۔س ۵۔حجر اسود کے چومنے سے لوگوں کے گناہوںکا دور ہونا اور پتھر کا رنگ بہ سبب گناہوں کے سیاہی پر آنا معارج النبوۃ میں لکھا ہے۔پس یہ اسلام کی خام خیالی ہے ۱؎۔الجواب: اوّل۔معارج النبوۃ کے حوالہ پر مکذب نے اسلام پر الزام لگایاہے حالانکہ معارج النبوۃ قرآن کانام نہیں اور نہ کسی حدیث یا الہامی کلام کا۔قرآن کریم میں حجر اسود کا تذکرہ ہی نہیں اور اس وقت آپ اسلامی الہامات پر حملہ کر رہے تھے۔کیا آپ کو غضب و طیش میں کچھ یاد نہ رہا؟ کہاں سے کہاں نکل گئے۔غور کرو ! اپنا قول تکذیب جو صفحہ ۱۰۲میں ہے۔’’اس جگہ واجب جانتا ہوں کہ اسلامی الہاموں کی غلطیاں بتاؤں‘‘۔پھران غلطیوں میں اس غلطی کو بھی درج کر دیا۔بنظر آپ کے فقرہ مرقومہ تکذیب صفحہ ۱۰۱ ہمیں بے اختیار کہنا پڑا کہ مکذب کا یہ دعویٰ بھی مثل اس کے اور دعاوی کے محض بے دلیل ہے۔دوم۔اصل بات یہ ہے کہ بہت مدت سے تصویری زبان کا دنیا میں رواج تھا اور اب بھی ۱؎ یہ مضمون لیکھرام کے مقابلہ میں تصدیق کے حصہ دوم میں تھا وہی نقل کر دیا گیا ہے۱۲ منہ