نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 318
تھا کہ کوئی کلا م پیش کر دیتے گو وہ کاگ بھا ش ہی ہو تا … ساور کہہ دیتے کہ قرآن نے (البقرۃ :۲۴) عام کہا ہے اورتخصیص نہیں کی۔قرآن بھی ایک کلام ہے اور جو ہم پیش کرتے ہیںوہ بھی کلام ہے۔قرآن عربی ہے تو کیا۔آخرکلام ہے اور ہمارا پیش کردہ کلام گو مہمل یا کاگ بہاش ہے مگر آخر کلام ہے مگر کسی نے ایسا نہ کیا اور نہ کر سکے۔یہی تو اعجاز ہے۔آپ کے بھائی امرتسری مولوی یہاں بھی نہیں چوکے۔ہمیں تعریض وتمسخر اور طنز سے کہتے ہیںکہ مرزا اپنے کلام کی بے نظیری کامدعی ہے مگر محدود کیوں کرتا ہے کہ فلاں مدت تک کوئی میرے جیسا کلام بنا کر پیش کرے۔میںکہتا ہوں اجی مولوی جی ! مرزا زمانی تحدیدبھی کرتا ہے بلکہ کہتا ہے ایسا بے نظیر کلام فصیح و بلیغ عربی میں پیش کرو۔پس دونوں قیود سے قرآن کی طر ح توسیع نہیں کرتا۔آپ اس نکتہ پر نہیں پہنچے۔مجھ خادم سے سنیئے۔مرزا حقیقتاًواقعی طور پر عین محمد واحمد نہیں بلکہ غلامِ احمد ہے۔پنجہ در پنجہ خدا دارم من چہ پروائے مصطفٰے دارم کو کفر اور بے ادبی یقین کرتا اور اس کے خلاف یوںکہتا ہے۔بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمرّم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم آقا کی برابری پسند نہیںکرتا اور اس کو بے ادبی جا نتا ہے اور تم نے تو مخالفت اور تصنیف کا ٹھیکہ لیاہوا ہے۔تم نے بھی کبھی عربی میں مقابلہ کر کے ہم کو نہ دکھا یا۔دیانند جیسے مہارشی نے بڑی تحقیق و تدقیق سے ملا پھیجی کا اکبر کے سمے بنانقطہ کے قرآن رچا ہوا بتایا ہے۔حضرت فیضی رحمۃ اللہ نے محمد جلال الدین اکبررحمۃ اللہ کے زمانہ میں قرآن کر یم کی خدمت کے لئے بلا نقط الفاظ میںایک تفسیر قرآن کی لکھی تھی جس کے ساطعہ نمبر ۸ میں لکھا ہے۔’’العلوم کلھا صداع الاعلم کلام اللہ وکل علم سواہ عطّلہ و اھملہ وکلام اللہ لا عد لمحا مدہ ولا حد لمکارمہ ولاحصرلرسومہ ولا احصاء لعلومہ وھو امام اھل الاسلام ومدار اصل المرام ‘‘