نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 276
سوال نمبر۸۵۔خداآسمانوں و زمین کو تھا م رہاہے۔افسوس خدا کی قدرت کتنی کمزور ہے کہ زمین بنا کر اس کو تھامنا پڑا اسی واسطے اس کو اونگھ اور نیند نہیں آتی اتنے بکھیڑے ڈال کر بھلا خدا کو نیند کہاں نصیب ہو۔الجواب۔تھامنا اور پھر آسمانوں اور زمین کا تھامنا۔او احمق انسان! کیا کسی کے ضعف کا نشا ن ہے یا قوت کاملہ کا۔پھر یہ تو بتاکہ کیاپران نام اس کا غلط ہے( اور جیسے پران کے اختیار میں تمام جسم اور حواس ہوتے ہیں ویسے ہی پرمیشور کے قابو میں تما م جہان رہتاہے غلط ہے )۔اور پھر کیا ہرنیہ گربھ جس کے معنی کسی نے سہارا لکھے ہیں دیکھو ستیارتھ پرکاش صفحہ ۷ اس نے کوئی حماقت کی ہے اور کیا وایو جس کا ترجمہ ساکن جہان کو زندہ اور قائم رکھنا کئے ہیں کسی مست میخوار کی بڑ ہے۔ستیارتھ صفحہ۸۔ہاں شاید فناکرتاہے کا لفظ دیکھ کر آپ نے ہم پر اعتراض کیاہے تو پھر کیا برسپتی نام غلط ہے جس کا مصدر پاہے اور جس کے معنے حفاظت ہیں اور کیایہ جھوٹ ہے۔اچھاقیوم لفظ پر آپ کا اعتراض ہے تو پھر کیا کیتوجس کا مصدر کت ہے اس کے معنی قیوم نہیں ؟پھر کیا وہ پتا نہیں جس کا مصدر پابمعنے حفاظت کے ہیں ہمارا خداتو نہ سوتاہے نہ اونگھتاہے پر کیا وید کا خداسوتاہے اور اونگھتاہے کہ تم نے ہم پر اعتراض کیا ہے۔اگر قدیم ہندیوں کے حوالے تم تسلیم کرنے والے ہوتے تو(البقرۃ :۲۵۶) کے مقابلہ میں خداسوتااور لکھشمی اس کے پائوں ملتی دکھلاتے۔سوال نمبر۸۶۔فرشتوں کے پَر ہوتے ہیں۔الجواب۔تمہارے ابا گوروجی تو کشف والہام کے قائل نہیں تھے کہ فرشتوں کو دیکھتے اور ہوتے بھی کیوں کر ان کے نزدیک تو قریباً دو ارب برس گزراہے کہ جو الہام ہوچکا سو ہوچکا۔پھر تو خدا ابھی تک خاموش ہے۔رہے فرشتے سو ان کی آنکھیں ہی نہ تھیں کہ وہ ان کو دیکھتے تم میں سے جنہوں نے دیکھا ان کی باتوں کوتم پوپ لیلہ مانتے ہو۔خود تم واقف نہیں کہ ہم تم کو وید کی رچین سناتے