نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 264
اوران ملائکہ کے مدمقابل یاضد ظلمت وہلاکت دوری اور عدم کے فرزند شیاطین اور ارواح خبیثہ ہیں۔ان کے تعلقات سے ان کی جماعت دوست بنتی ہے آخر اللہ تعالیٰ پھر فرشتوں۔ملائکہ۔دیوتا۔اہرمن۔ارواح خبیثہ۔اسر۔شیاطین کے تعلقات سے ان مظاہر قدرت سے تعلقات پیدا ہوجاتے ہیں۔پھر آخرکار اچھے لوگوں کو اور اچھے لوگوں سے پیوستگی ہوجاتی ہے اور بروں کو اور بروں سے بلکہ یہ تعلقات اس قدر ترقی پذیر ہوتے ہیں کہ ذرات عالم میں اچھے ذرات کا اچھوں سے تعلق ہوتاہے اور برے موذی دکھ دائک ذرات کا بروں سے۔کیا کوئی شخص تاریخی مشاہدات اور تجارب صحیحہ سے ہمیں بتا سکتاہے کہ آتشک اور خاص سوزاک۔جذام اور گھناؤنے اور گندے گندے امراض اور جان گداز ناکامیاں ماموروں۔مرسلوں اوران کے پاک جانشینوں کولاحق ہوتی ہیں یا ان کے مخالفوں کو؟ قرآن کریم کیسے زور سے دعویٰ فرماتا ہے کہ مقبولان ومقربان الٰہی کے یہ سچے نشان ہیں اسی واسطے کوئی صحابی حضرت خاتم النبیین بہرہ نہیں ہوا۔(المجادلۃ :۲۳) یہی لوگ خدا کی جماعت ہیں اور یادرکھو خد ا کی جماعت مظفر ومنصور ہے۔(المنافقون :۹) اور غلبہ سدا اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے لئے ہے لیکن منافق نہیں جانتے۔(المومن :۵۲) ہم ضرور کامیاب کرتے ہیں اپنے رسولوں اور مومنوں کو دنیا کی زندگی میں اور پیش ہونے والوں کے پیش ہونے کے دن میں۔اس جنگ اور اولیاء اللہ کی کامیابی کے متعلق جسے دیو اسر سنگرام کہتے ہیں ہم نے اس رسالہ میں بہت جگہ تذکرہ کیاہے۔