نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 245
معین اور مقدر میں اس کا مخلص مومن متقی محسن اور برگزیدہ بندہ لامحالہ فتح مندہو جاتا ہے اور اس کا دشمن شیطان، اللہ سے دور، فضل سے ناامید، ابلیس شریر اور شرارت پیشہ تباہ وہلاک ہو جاتا ہے۔اسی سنت کے موافق خدا تعالیٰ اپنے ازلی علم اور ارادہ میں مقرراور مقدر کرچکا تھا کہ ہمارے ہادی وشفیع خاتم الانبیاء والمرسلین رحمۃ للعالمین ﷺ وبارک وسلم الی یوم الدین کے جانشینوں کو بلاد ایران وتوران اور شام ومصر وغیرہ پر تسلط بخشے گا اور ہر قسم کے فتوحات کا فتح مند اور منصور وغالب کرے گا۔اس ارادہ کے پورا کرنے کے لئے اس قادر حکیم علیم خدا نے ایک طرف ایسی حالت پیدا کردی کہ تمام عرب میں نیکیوں کے ساتھ ہمت واستقلال بخشا اور اس کے ساتھ وحدت کی روح پھونک دی اور دوسری طرف ان تمام بلاد میں جن کامفتوح ہونا مقدر تھا تباہی کے اسباب یعنی فسق وفجور۔زنا۔بدکاری۔کسل۔تفرقہ اور طوائف الملوکی پھیل گئی اور تمام باتیں عین نظام کائنات کے مطابق الٰہی ارادہ کے ماتحت اس کے فرستادوں کی پیشگوئیوں کے موافق واقع ہوئیں او ر ہوتی ہیں۔اسی سنت کے موافق جن لوگوںکو حضرت نبی کریم کی اتباع اورمعیت کا شرف بخشا اور چاہا کہ انہیں دنیا پر حق کو پھیلانے کا آلہ اور ذریعہ بنائے ان پر یہ فضل کیا کہ ان میں اخلاص۔وحدت خداترسی۔شجاعت۔عفت۔صلح۔خودداری۔استقلال اور توجہ الی اللہ کی قوت بڑھتی جاتی تھی اور ان کے مخالفوں میں نفاق۔غرور۔کبر۔تہور۔جبن۔فسق۔فجور۔غضب۔عجزوکسل اور غفلت ترقی پر تھی اس روحانی لعنت کے قبضہ میں ہوکر اگرچہ وہ لوگ ان برگزیدوں کے مقابل پر اپنی ساری طاقتوں اور مال اور جان کو خرچ کرتے مگر نامراد اور ناکام رہ جاتے۔اس قصہ کو اب ہم لمبا نہیں کرتے اصل بات سناتے ہیں۔عرب میں ان دنوں میں جنگ کا یہ دستور تھا کہ پہلے مبارزہ ہوا کرتا تھا یعنی ایک آدمی دوسرے کے مقابلہ نکلتا۔پھر مبارزہ کے بعد تیروں سے جنگ کی ابتدا ہوتی تھی اور قاعدہ ہے کہ اگر ایسی جنگ کے وقت تیز ہوا چل پڑے تو اس وقت جس لڑنے والی فوج کی پیٹھ کی طر ف سے ہوا