نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 203
اپنی جماعت کو لے کر پہاڑ پر چلاجا پس بارہ چشمے ایسے جاری ہیں۔اس آیت میں تین لفظ ہیں ان کے معنے سنو! ۱۔الضرب۔ایقاع شیء علٰی شئی منہ ضرب الرقاب ثم ضرب الخیمۃ وضرب الذلۃ۔ضرب کے معنی ہیں ایک چیز کا دوسری پر مارنا۔گردن کا مارنا۔خیمہ کا لگانا اور ذلت کی مار مارنا۔اسی سے نکلا ہے۔۲۔والضرب فی الارض الذھاب فیہ ومنہ اذا ضربتم فی الارض واضربوا مشارق الارض ومغاربھا۔ومنہ ضرب یعسوب الدین ای اسرع الذھاب فی الارض فواراً من الفتن۔لسان۔تاج۔مجمع البحرین۔اور ضرب کے معنی ہیں زمین پرجانا اور اسی سے ہے جب تم زمین میں جاؤ اور زمین کی مشرق ومغرب میں جاؤ۔اور اسی محاورہ سے ہے یعسوب دین چلایعنی فتنوںسے بھاگ کر جلدی کہیں کو نکل گیا۔(یعسوب الدین مولیٰ مرتضیٰ علیہ السلام کا لقب ہے) ۳۔والضرب الاقامۃ حتی ضرب النّاس بعطن ای رویت ابلھم حتی برکت واقامت یقال ضرب بنفسہ الارض ای اقام۔والضرب یقع علی کل فعل وعلیٰ جمیع الاعمال الا قلیلا۔تاج۔لسان اور ضرب کے معنی ہیں اقامت کرنا۔محاورہ ہے لوگوںنے اپنے اپنے ڈیروں میں آرام کیا۔کیا معنی اونٹ پانی پی کر بیٹھ گئے اور ٹھہرے۔اپنے آپ کو زمین میں ٹھہرایا۔ضرب کا لفظ ہر فعل پراور تمام اعمال پر بجز اندک کے اطلاق پاتا ہے۔خلاصہ۔ضرب کے معنے ہوئے کسی چیز کا کسی پر ڈالنا۔کہیں جانا۔کہیں اقامت کرنا یا کوئی کام کرنا۔۲۔العصا۔جماعۃ الاسلام۔قاموس اور صحاح میں ہے۔شقوا عصاالمسلمین۔ای اجتماعھم وایتلافھم۔