نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 183
اس لئے ہوتا ہے کہ اس کو پینے میں الٰہی ارشادہے وَاشْرَبُوْا اور اس کا بی بی سے محبت وپیار اسی واسطے ہوتا ہے کہ(النساء :۲۰) کا حکم ہے۔پس شہوت و غضب۔طمع و جزع۔عجز و کسل۔بے استقلالی وغیرہ رذائل اس میں نہیں رہتے۔وہ انعامات کے وقت اگر شکر کرتا ہے تو ارشاد الٰہی سے اگر مصائب پر صبر کرتا ہے تو رضا الٰہی کے لئے۔وہ اپنے اور دوسرے کے معاصی پر اس لئے ناراض ہوتاہے کہ اس کا مولیٰ ان باتوں پر ناراض ہے۔وہ مشرکوں بے ایمانوں۔شریروں پرتلوار اٹھاتاہے مگر الٰہی ہتھیار بن کر۔یہی قربانی ہے جس کے بارے ارشاد ہے۔(المائدۃ :۲۸) جب ان دونوں نے قربانی دی آخر ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی رد ہوئی۔اس نے کہا میں تجھے مارڈالوں گا۔اس نے کہا اللہ متقیوں کی قربانی قبول کیا کرتا ہے۔دوسری انسانی قربانی جس کو اسلام نے جائز رکھا ہے۔جوانان قوم اور مدبران ملک کی قربانی ہے مگر اس وقت کی بڑے بڑے سیاسی بلاد یورپ وامریکہ ہاں عام بلاد کا ذکر کیوں کریں خود انگلستان نے میری ذرہ سی شخصی زندگی میں جہاں انڈیا، کابل، پنجاب، دہلی کے غدر۔سوڈان۔خرطوم۔ٹرنسفال اور سمالی لینڈ وغیرہ جزائر میں صرف تجارت یا یوں کہو حکومت کے لئے لاکھوں نیئر اور ڈیر قربانی کئے ہیں تو وہاں ان تراشے گلوں نے اپنے ملک وقوم کو تو دنیا کے صراط پر سے کیا گزارا دنیاکی جنت میں پہنچا دیا ہے اور وید کی تعلیم نے تو ہزارہا منتروں میں اس نرمیدہ انسانی قربانی کی تاکید لکھی ہے میں کہاں تک گن کر دکھاؤں مشتے بطور نمونہ یادانہ از خروارے لکھتا ہوں۔اوّل دیکھو سوال نمبر ۴کو جہاں میں نے مفصل حوالے دئیے ہیں ستیارتھ صفحہ ۳۵۵رگوید بھاش