نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 152 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 152

بہشت کے متعلق اور حور اور ولدان قصور اورغلمان کے متعلق بحث اس بحث میں ایک طویل مضمون لکھنا چاہتا تھا مگر اصل رسالہ جس کا جواب دیناہے چھوٹا ہے اور یہ مضمون بذات خود ایک بڑے رسالہ میں درج ہونے کے قابل ہے اس کے ایک ایک سوال پر اگر جواب لکھاجائے تو مجلد ضخیم چاہیے اس لئے ہم اس مضمون کو تین حصوں میں تقسیم کرکے یہاں مختصراً لکھتے ہیں۔اوّل۔صرف آریہ کو خطاب کرتے ہیں کہ جان جس کو عام لوگ روح کہتے ہیں اور سنسکرت میں جیو آتما ہے اس کی نسبت یہ اعتقادہے اور رہے گا۔یہ امر ہمارے اور آریہ کے مسلمات میں ہے اور یہ بات کہ یہ جان ہم سے پہلے تھی اور اس جسم سے سابق اس کا وجود تھا یہ امر ایسا ہے کہ اس کا یہاں بیان کرنا کچھ ضروری نہیں۔ہاں جان ہے اور رہے گی کا ثبوت ستیارتھ پرکا ش نویں سملاس کے پندرہویں سوال میں لکھا ہے۔’’مکتی میں جیو لے ہو جاتا ہے یا قائم رہتاہے‘‘اس کا جواب خود دیانند دیتا ہے کہ قائم رہتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ جیو ایک لطیف جسم بھی رکھتاہے اور پھر بھی رکھے گا۔ستیارتھ پرکاش کے صفحہ ۳۱۴میں لکھا ہے ’’جینمی اچار مکت پرش کے لطیف جسم حواس اور پران وغیرہ کا بھی بمثل من کے موجود رہنا مانتے ہیں نہ کہ معدوم ہوجانا‘‘ اور صفحہ ۳۱۳میں سترہ سوال کے جواب میں کہا ہے۔’’کہ جیو میں مقدم تو ایک قسم کی طاقت ہے مگر ۱؎چوبیس قسم کی طاقتیں جیو رکھتا ہے۔اس وجہ سے مکتی میں بھی آنند کے حصول سے محظوظ ہوتا ہے۔اگر مکتی میں جیو لے ہوجاتا تو مکتی کے سکھ کوکون بھوگتا اور جو جیو کے فنا ہونے کو مکتی سمجھتے ہیں وہ تو سخت جاہل ہیں‘‘یاد ر کھو! اور پھر یہ بھی لکھا ہے چھتیس سوال صفحہ ۳۲۱کہ ایک جیو عالم نیک نہاد صاحب حشمت را جہ کی رانی کے حمل میں جاگزین ہوتا ہے۔پھر صفحہ ۳۴۲میں لکھا ہے کہ جو متوسط درجہ کے رجوگنی ہوتے ہیں وہ