نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 118
اور قائم بالذات ہونے پر شاہد حال ہے کیونکہ جس طرح چاند سورج سے اکتساب نورکرتا ہے اسی طرح نفس انسان کا جو مستعد اور طالب حق ہے ایک دوسرے انسان کامل کی پیروی کر کے اس کے نور میں سے لے لیتا ہے اور اس کے باطنی فیض سے فیض یاب ہو جاتاہے بلکہ چاند سے بڑھ کر استفادہ نور کرتا ہے کیونکہ چاند تو نورکو حاصل کر کے پھر چھوڑبھی دیتاہے مگر یہ کبھی نہیں چھوڑتا۔پس جب کہ استفادہ نور میں یہ چاند کا شریک غالب ہے اور دوسری تمام صفات اور خواص چاند کے اپنے اندر رکھتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ چاند کو تو موجود بالذات اور قائم بالذات مانا جائے مگر نفس انسان کے مستقل طو ر پر موجود ہونے سے بکلی انکار کر دیا جائے۔غرض اسی طرح خدائے تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو جن کا ذکر نفس انسان کی پہلے قسم کھا کر کیا گیا ہے اپنے خواص کے رو سے شواہد اور ناطق گواہ قرار دے کر اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نفس انسان واقعی طور پر موجو دہے اور اسی طرح ہریک جگہ جو قرآن شریف میں بعض بعض چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں۔ان قسموں سے ہر جگہ یہی مدعا اور مقصد ہے کہ تا امر بدیہہ کو اسرار مخفیہ کے لئے جو ان کے ہم رنگ ہیں بطور شواہد کے پیش کیا جائے۔(توضیح مرام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۸۰ تا ۸۲) سوال نمبر ۱۵۔’’کن سے سب کچھ بنانے والا تھا تو آسمان وزمین کو چھ دن اور تین دن میں کیوں بنایا۔‘‘ الجواب۔کن کے معنے ہوجا۔فیکون کے معنے ہو جاتاہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کسی چیز کے وجود کو چاہتاہے اسی طرح وہ چیز ظہور میں آجاتی ہے۔مثلاً بقول دیانند کے جیسا کہ اس نے ستیارتھ پر کاش میں لکھا ہے ’’ابتدائے سرشٹی میں بہت سارے آدمیوں کا وجود یک دم چاہا تو ان کا وجود ایک دم ہو گیا اور ۲۴برس یا چوالیس کے بلکہ اٹھتالیس برس کے جوان پیدا کر دئیے لاکن اب ہمارے زمانہ میں ادھرم پال کے لئے تجویز کیا کہ بی اے ہو کر کچھ دن مدرس رہ کر اور مسلمانوں کا مال کھا کر برہمچریہ بنے۔مجھے ٹھیک عمر تو معلوم نہیں مگر بیس تیس کے درمیان یہ وجود