نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 114 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 114

غور کرو ! گئوادی پشئوں میں کس قدر گائے بیل، ہرن ،بکری، اونٹ، سؤر، کوے، مرغ، چیل، کیڑے مکوڑے داخل ہیں انصاف کرو اور پھر سوچو !! وہ جو منوجی اور بہرگ جی کی جامع سنگھتا میں برا بول بولا۔جس نے کہا او ر ویدک قانون بتایا۔دیکھو منو ۸۔۸۸ گئو بیج اور سونا کی قسم دے کر ویشیہ سے پوچھے۔منو ۸۔۱۰۹میں ہے سوگند کے وسیلہ سے اصلی بات کو دریافت کرے اور کیا غلط کہا جو منو ۸/۱۱۰میں ہے۔دیوتا اور بڑے بڑے رشی لوگوں نے کام کے واسطے سوگند کھائی ہے اور بسوامتر کے جھگڑے میں بشثت رشی نے پیون کے بیٹے سدامان را جہ کے روبرو قسم کھائی تھی۔ہماری پاک کتاب میں قسموں کا ہونا ایک معجزہ ہے اور عظیم الشان معجزہ ہے بلکہ اسلامی اصطلاح کے مطابق ایک آیت اور نشان نبوت ہے اور عظیم الشان نشان نبوت ہے کیونکہ عرب میں ایک مثل تھی۔ان الایمان تدع الارض بلاقع۔قسمیں ملک کو ویران کر دیتی ہیں۔اور منو کہتا ہے ۸۔۱۱۱۔کیونکہ جھوٹی قسم کھانے سے اس لوگ میں اور پرلوگ میں نشٹ ہوتا ہے۔پنجابی میں مثل ہے جھوٹی قسم تاں پٹ ماردی اے۔اب سوچو اور خوب سوچو کہ قرآن اور صاحب قرآن اس قدر قسموں کے ساتھ کیسا فاتح اور کیسا کامیاب ہوا کہ اس کے دشمنوں کا نام ونشان نہ رہا۔ذرا اس پر غور وتامل کرو ! ان قسموں کا ثبوت تجارب وضرب المثلوں اور منو کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے اور تمہارے خیال میں ایک مجنون اور جھوٹے کا فعل ہے۔جلسہ مہوتسو کے اسلامی مضمون میں امام مہدی نے اور بھی واضح فرما دیا ہے اور بانی اسلام تو تمہارے نزدیک جیسے ہیں تمہارے اقوال و افعال سے ظاہر ہے۔مگر دیکھ لو کہ کس طرح روز افزوں ترقی اسلام اور بانی اسلام اور عرب کو ہوئی۔پس اگر قسم زہر تھی تو اس نے تریاق کاکام دیا اور اگرحق ہے تو کیسی حقیقت حق کی ظاہر ہوئی کہ تمہارے ملک میں بھی آبراجا۔سنو!مطالب دو قسم کے ہوتے ہیں اول بڑے ضروری۔دوسرے ان سے کم درجہ کے۔بڑے ضروری مطالب کو بہ نسبت دوسرے مطالب کے تاکید اور براہین اور دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے۔یہ میر ا دعویٰ بہت صاف اور ظاہر ہے۔